خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 253

$1951 253 خطبات محمود باقی ہے اور پانچ مہینے کا خرچ باقی ہے۔لیکن جو آمد باقی ہے اگر احباب اُس کے ادا کرنے سے اس لیے غفلت نہ برتیں کہ اب نیا سال شروع ہو گیا ہے اور جو گزشتہ بقائے پندرھویں اور سولھویں سال کے ہیں یا دور دوم کے پانچویں اور چھٹے سال کے ہیں وہ بھی احباب ادا کر دیں تو اُمید کی جاتی ہے کہ اس سال کا خرچ نکل جائے گا لیکن پچاس ہزار روپیہ کا بار پھر بھی رہے گا۔ہاں! اگر گزشتہ سالوں کے سارے بقائے ادا کرنے کی جماعت کو توفیق مل جائے تو یہ پچاس ہزار کا بار اور پچھلے سال کا اٹھارہ ہزار کا بار گویاستر ہزار کے قریب تحریک جدید پر جو بار ہے وہ سب کا سب دور ہو جائے گا۔یہ لازمی بات ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر سال اپنے کام کو بڑھانا پڑے گا اور اگر ہر سال ہم اپنے کام کو بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں خرچ بھی ہر سال زیادہ کرنا پڑے گا۔اس میں کوئی مبہ نہیں کہ چندے کے علاوہ بھی بعض اور ذرائع ہوتے ہیں جن سے آمد پیدا کی جاتی ہے لیکن ہمارے کارکنوں کو ابھی ویسی مشق نہیں اس لیے ابھی وہ ان ذرائع کو اختیار نہیں کر سکے یہ نستی کر جاتے ہیں یا اختیار کرتے ہیں تو ناکام رہ جاتے ہیں۔حالانکہ انہی ذرائع سے دوسری قومیں اور افراد اپنی مالی حالت کو درست کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔یہ کوتاہی جو ہم میں ہے اور جو در حقیقت سارے ہی مسلمانوں میں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چار پانچ سوسال سے حکومت، تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلتی چلی گئی ہیں اور اب غیر قو میں اس میدان میں بہت آگے نکل گئی ہیں لیکن بہر حال اپنی سستی اور عدم تو تجمی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے جو حالات پیدا کیسے ہیں اب وہ بہت بڑی جدو جہد سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔صرف ارادہ اور معمولی کوشش سے دور نہیں ہو سکتے۔لیکن یہ چیز وقت چاہتی ہے اور پھر عزم چاہتی ہے۔جب تک تحریک جدید کے کارکنوں میں یہ عزم پیدا نہ ہو جائے اور جب تک ان میں سے ایک طبقہ کو صحیح جدو جہد کے کرنے کی توفیق نہ مل جائے اُس وقت تک کامل انحصار بہر حال چندہ پر ہی رکھنا پڑے گا۔کچھ کچھ جماعت میں تجارتی ذہنیت آرہی ہے لیکن ابھی وہ اس حد تک نہیں آئی کہ ہم اسے اپنی آمد کا ایک بڑا منبع سمجھ لیں۔وہ ایک چھوٹا سا منبع تو ہو گیا ہے لیکن اگر صحیح جدوجہد کی جائے اور پوری توجہ سے کام کیا جائے تو یقیناً تجارت اور زراعت وغیرہ سلسلہ کی آمد اور افراد سلسلہ کی آمد کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔لیکن جب تک وہ نہیں بنتے جماعت سے یہی کہنا پڑے گا کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو۔جو وعدے گزشتہ سالوں کے۔ہمیں