خطبات محمود (جلد 32) — Page 254
$1951 254 خطبات محمود ابھی تک تم نے پورے نہیں کیسے اُن کو جس طرح بھی ہو سکے پورا کرو اور آئندہ کے لیے اپنے وعدوں کو سال بہ سال ادا کرنے کی کوشش کرو۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس سال تحریک جدید پر اس قدر مالی بوجھ آ پڑا ہے کہ دور دوم کی آمد جور یز رو فنڈ کے طور پر ہمیں محفوظ رکھنی چاہیے تھی وہ اس سال ریز رو فنڈ میں نہیں جاسکی بلکہ ساری کی ساری خرچ ہو گئی ہے۔مگر باوجود دونوں سالوں کی آمد کے خرچ ہو جانے کے پچاس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے بلکہ دونوں دوروں کے قرض کو ملا کر یہ رقم اسی ہزار کے قریب بن جاتی ہے۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ ابھی بہت سے بقائے وصول ہونے باقی ہیں لیکن پانچ ماہ کے اخراجات بھی باقی ہیں۔اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اگر بقائے ادا ہوں جائیں اور ہم اس سے پانچ ماہ کے اخراجات تنگی سے گزارہ کر کے پورے بھی کر لیں تب بھی پچاس ہزار روپیہ قرض باقی رہے گا۔پس دوستوں کو اپنے بقائے جلد سے جلد ادا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی نئے سال کی تحریک ہوتی ہے بعض دوست یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب نئی تحریک شروع ہوگئی ہے اور پرانی ختم ہو گئی ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وعدہ پورا کرنے میں دیر کرنا انسان کو اُس وعدہ سے آزاد نہیں کر دیتا بلکہ اسے زیادہ مجرم بنادیتا ہے مگر بعض لوگوں کی یہ ذہنیت ہوگئی ہے کہ وہ نئے سال کی تحریک پر پچھلے سال کی تحریک کے وعدوں کو بھی بھول جاتے ہیں۔مثلاً پچھلے سال اگر انہوں نے پچاس کا وعدہ کیا تھا اور وہ وعدہ ابھی انہوں نے پورا نہیں کیا تھا تو نئے سال کی تحریک ہونے پر وہ فوراً پچھتر کا وعدہ کر دیں گے اور یہ وعدہ کرتے وقت اُن کا دل اتنا خوش ہوتا ہے کہ وہ اسی خوشی میں گزشتہ سال کے وعدہ کو بالکل بھول جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پچھلا سال تو گیا اس سال ہم پچھتر روپے ادا کر دیں گے۔پھر پچھتر بھی ادا نہیں کرتے اور اُس سے اگلا سال شروع ہو جاتا ہے۔اس پر وہ پھر سور و پیہ کا وعدہ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں اَلحَمدُ لِلهِ خدا تعالیٰ نے ہمیں پچھلے سال سے بڑھ کر چندہ لکھوانے کی توفیق عطا فرمائی اور یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ پچھلے پچاس اور چھپتر بھی ادا کریں۔اس قسم کی ذہنیت والے آدمی ہی ہیں جو در حقیقت کام کو نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔لیکن جو لوگ وعدے کرتے ہیں اور پھر ان وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حضور بھی سرخرو ہوتے ہیں اور دین کے کام میں بھی مددگار بنتے ہیں۔پس ایسے افراد کو بھی