خطبات محمود (جلد 32) — Page 218
$1951 218 خطبات محمود ترقی کر رہی ہے۔ان امور کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اگر جماعت کی تربیت کی جائے اور صحیح طور پر کی جائے تو یہ کام ہمیشہ ترقی ہی کرتا جائے گا۔چونکہ اب نیا سال شروع ہونے والا ہے اس لیے میں گزشتہ سال کی طرح پھر جماعت کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ پچھلے سال کے وعدوں سے غافل نہ ہوں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اب نیا سال شروع ہو گیا ہے اس لیے ہمارا پچھلا وعدہ معاف ہے مگر یہ بالکل غلط ہے۔خدا تعالیٰ سے کیے گئے وعدے اگر پورے نہ کیے جائیں تو انسان کو اگلی نیکیوں کی بھی توفیق نہیں ملتی۔یہ کسی بندے سے معاملہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے جو عالم الغیب ہے۔بندوں سے اگر تم کوئی وعدہ خلافی کرو تو ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری وعدہ خلافی کو بھول جائیں مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تم نے اُس سے کیا وعدہ کیا تھا اور تم اُسے کیوں پورا نہیں کر رہے۔پس دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہ وعدہ ہے جو انہوں نے خدا تعالیٰ سے کیا ہے۔تم گورنمنٹ سے وعدہ کر کے اُسے نہیں توڑ سکتے ہتم محلہ والوں سے وعدہ کر کے اسے نہیں توڑ سکتے تم اپنے افسروں سے وعدہ کر کے اسے نہیں توڑ سکتے ، بلکہ بڑے تو الگ رہے اگر تم اپنے بچوں سے کوئی وعدہ کرتے ہو پھر اُسے توڑنے لگتے ہو تو وہ شور مچادیتے ہیں کہ آپ یہ کیا کرنے لگے ہیں اور تمہیں اپنے بچوں کا وعدہ بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے ایک امریکن کا ایک قول پڑھا جو مجھے بڑا دلچسپ معلوم ہوا۔وہ لکھتا ہے معلوم نہیں کیا بات ہے کہ ہمارے بچوں کو کبھی کبھی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ سکول میں داخل ہیں اور انہوں نے مدرسہ میں پڑھنے کے لیے جانا ہے، کبھی کبھی ہمارے بچوں کو یہ بھی بھول جاتا ہے کہ بڑوں اور بزرگوں کے سامنے جاتے وقت کیا آداب بجالانے چاہیں اور کونسے طریق ہیں جو انہیں اختیار کرنے چاہیں کبھی کبھی ہمارے بچوں کو یہ بھی بھول جاتا ہے کہ انہیں اپنا لباس درست رکھنا چاہیے، کبھی انہوں نے کوٹ نہیں پہنا ہوتا، کبھی ان کے پاؤں میں جراب نہیں ہوتی کبھی جوتی نہیں ہوتی، ہمارے بچوں کو کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ آداب جو کھانے پینے کے ہیں کہ ہاتھ دھوکر کھانا کھاؤ اور خدا تعالیٰ سے دعا کرو یہ انہیں ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہیں ، وہ بعض دفعہ بغیر ہاتھ دھوئے کھانا شروع کر دیتے ہیں یا اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتے۔لیکن ایک بات ہے جو بچے کبھی نہیں بھولتے اور وہ یہ کہ خواہ جھوٹے طور پر ہی کسی زمانہ میں منہ سے بات نکل جائے کہ ہم تمہیں یہ چیز لے کر دیں گے تو وہ اس بات کو کبھی نہیں بھولتے اور اُس وقت تک پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں