خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 217

$1951 217 خطبات محمود آئے گا تو اسلام کی اشاعت اور اسلام کی ترویج کو بھی نقصان پہنچے گا۔اور ظاہر ہے کہ یہ بات نا پسندیدہ ہوگی۔قوم کے معنی ہی یہی ہوتے ہیں کہ اگر ایک میں کوتاہی پیدا ہو تو دوسرا اُس کو دور کر دے۔ایک گھوڑے کی گاڑی کا گھوڑا جب تھک جاتا ہے تو گاڑی ٹھہر جاتی ہے۔لیکن دو گھوڑے کی گاڑی کا اگر ایک گھوڑا تھک بھی جاتا ہے تو دوسرا چلتا چلا جاتا ہے۔جماعت اور فرد میں یہی فرق ہے۔جو کام ایک فرد کر رہا ہو وہ جہاں کمزور ہو جائے گا کام ختم ہو جائے گا لیکن جو کام ایک قوم کر رہی ہو اُس کام کے کرتے ہوئے اگر ایک شخص میں کمزوری بھی پیدا ہوگی تو باقی آدمی اُس بوجھ کو بانٹ لیں گے اور اس طرح وہ قومی کام کے تسلسل میں کوئی روک پیدا نہیں ہونے دیں گے۔پس جماعت کے قائم کرنے کی جو غرض ہے ہماری جماعت کو وہ بھی نہیں بھولنی چاہیے۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ جماعت کا کچھ حصہ کمزور ہے خواہ ایمانی لحاظ سے یا مالی لحاظ سے یا قربانیوں میں شمولیت کے عزم کے لحاظ سے تو باقیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے قدم کو تیز تر کریں اور جماعتی کاموں میں کوئی رخنہ واقع نہ ہونے دیں۔جماعت تبھی جماعت کہلاسکتی ہے جب وہ دوسروں کا بوجھ بٹانے کے لیے ہر وقت تیار رہے اور سمجھے کہ اگر کسی حصہ میں بھی کمزوری پیدا ہوئی تو میں خود زیادہ بوجھ برداشت کر کے اس کمزوری کو ظاہر نہیں ہونے دوں گا۔پس اس حصہ کی کمی کو بھی دور کرنا چاہیے۔باقی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال وصولی زیادہ ہوئی ہے لیکن اس سال اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے تحریک جدید کی مالی حالت خطرہ میں گھری ہوئی ہے۔اگر اسے جلدی ضبط میں نہ لایا گیا تو ممکن ہے خدا نخواستہ ہمیں اپنے بعض مشن بند کرنے پڑیں۔ہم یقین تو یہی رکھتے ہیں کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اس لیے وہ اس کی ترقی کے لیے کوئی نہ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔وہ خود لوگوں کے دلوں میں قربانی کی روح پیدا فرما دے گا یا نئے آدمی لائے گا جو اس بوجھ کو خوشی سے اٹھانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔لیکن جہاں تک ہم ظاہری حالات کو دیکھتے ہیں ہمارے دل میں دھڑکن پیدا ہونے لگتی ہے کہ اس زمانہ میں اسلام کی فتح کا جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اُس میں کوئی روک پیدا نہ ہو جائے۔جہاں تک میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اور جہاں تک میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت کے نوجوان اچھے تعلیم یافتہ نکل رہے ہیں اور ان کی مالی حالت