خطبات محمود (جلد 32) — Page 219
$1951 219 خطبات محمود جب تک وہ چیز انہیں لا کر نہ دی جائے۔در حقیقت اس میں بہت بڑی سچائی بیان کی گئی ہے اور ہر گھر میں ماں باپ کو اس کا تجربہ ہو گا کہ بچہ کو خواہ اُس کے والدین مذاق ہی سے یہ کہہ دیں کہ تمہیں فلاں چیزی لے کر دیں گے اور پھر لے کر نہ دیں تو وہ ہمیشہ کہتا رہتا ہے کہ فلاں چیز کا میرے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا مگر مجھے وہ چیز لے کر نہیں دی گئی۔اگر بچہ بھی اپنا وعدہ پورا کرواتا ہے تو ہمارا خدا کیا بچوں سے بھی گیا گزرا ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورانہیں کروائے گا؟ اور اگر بچوں کے ڈر کے مارے تم اُن کے وعدوں کو بھی پورا کر دیتے ہو تو کیا ہمارا خدا ہی ایسا ہے کہ تم اُس سے ڈر کر اپنے وعدوں کو پورا نہ کرو۔پس تم نے جو خدا تعالیٰ سے وعدے کیے ہیں ان وعدوں کی عظمت کو پہچانو اور یا درکھو کہ تمہارا مستقبل، تمہاری اولاد کا مستقبل، تمہاری قوم کا مستقبل، تمہارے ملک کا مستقبل، تمہاری حکومت کا مستقبل بلکہ ساری دنیا کا مستقبل خدا تعالیٰ سے ہی وابستہ ہے۔اگر اس سے صلح رکھی جائے گی تو تمہارے ہر کام میں برکت پیدا ہو جائے گی۔لیکن اگر تم اس سے صلح نہیں رکھو گے تو تمہارا ہر کام خراب ہوگا اور تم اپنی کامیابی سے کوسوں دور چلے جاؤ گے۔پس گزشتہ سال کے جو وعدے ہیں اُن کو پورا کرنا بھی تمہارا فرض ہے اور پورا بھی اسی سال کے اندر کرنا ہے۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان وعدوں کو جلد تر پورا کرنے کی کوشش کریں۔بعض جماعتوں کی طرف سے اطلاعیں آ رہی ہیں کہ انہوں نے چندے بھجوا دیئے ہیں اور بعض رقوم چیکوں کے ذریعہ آ رہی ہیں جو ابھی تک نہیں پہنچے۔ان چندوں کو ملا کر اس سال کی فيصدى إِنْشَاءَ اللہ اور بھی بڑھ جائے گی لیکن اگر پھر بھی بعض لوگوں کے وعدے رہ جائیں تو انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے وعدوں کو جلد سے جلد ادا کر دیں تا کہ انہیں اگلے سال کے وعدوں کو پورا کرنے کی جلدی توفیق مل سکے۔جس شخص پر پچھلے سال کا بھی بوجھ ہوتا ہے وہ اگلے سال کا بوجھ اٹھانے میں اتنی بشاشت محسوس نہیں کرتا جتنی بشاشت اور آسانی وہ شخص محسوس کرتا ہے جس پر گزشتہ سال کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ دوستوں کو ایک اور امر بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ ابھی چھٹے سال کے بلکہ اس سے بھی پہلے سالوں کے کئی وعدے ایسے ہیں جو پورے نہیں ہوئے۔اُن وعدوں کو بھی اگر مد نظر رکھا جائے تو ابھی ایک لاکھ کے قریب وصولیاں باقی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس سال