خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 220

$1951 220 خطبات محمود اخراجات کی ایسے رنگ میں زیادتی ہوئی ہے کہ چندے کی وصولی اور اچھی وصولی کے باوجود ابھی تک اخراجات پورے نہیں ہوئے۔مثلاً اس وقت تک سترھویں سال کی ساری آمد خرچ ہو چکی ہے۔اسی طرح ساتویں سال کی آمد بھی بجائے اس کے کہ ریز روفنڈ میں جاتی ساری کی ساری اس سال کے اخراجات میں صرف ہو چکی ہے اور اس کے علاوہ ابھی چوالیس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے۔گویا چوہتر فیصدی آمد کے باوجود ابھی چھ مہینے کے اخراجات باقی ہیں۔یہ چھ ماہ کے اخراجات اسی صورت میں چل سکتے ہیں جب سترھویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں اور سولھویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں۔اور جب ساتویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں اور چھٹے سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں۔تب جا کر یہ سال صحیح طور پر گز رسکتا ہے اور آئندہ سالوں کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی احباب یہ بھی مد نظر رکھیں کہ اگلے سال کے وعدے وہ نمایاں اضافوں کے ساتھ پیش کریں اور اپنا قدم آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔یہ غلط طریق جو اختیار کر لیا گیا تھا کہ وعدے اوپر سے نیچے آنے شروع ہو گئے تھے اس کو دور کیا جائے اور دوست اپنے وعدوں میں نیچے سے اوپر کی طرف جائیں اور اپنے وعدوں میں زیادتی کریں۔ایک اور سخت روک جو ہمارے راستہ میں پیدا ہو گئی ہے دوست اس کو بھی مد نظر رکھیں اور وہ یہ کہ اب ہندوستان کا روپیہ ہمارے پاس نہیں آ رہا۔ہندوستان کے بھتیس ہزار روپیہ کے وعدے تھے جن میں سے ایک پیسہ بھی ہمیں نہیں مل سکتا۔ساری دنیا سے روپیہ یہاں آ جاتا ہے اور ان کے وعدے یہاں پہنچ جاتے ہیں لیکن ہندوستان سے روپیہ نہیں آسکتا۔اس کے علاوہ قادیان میں بھی روپیہ کی ضرورت ہے۔پس چھتیس ہزار کی تو اس طرح کمی آگئی۔در حقیقت ہندوستان کے وعدوں کو نکال کر دو لاکھ ستائیس ہزار آمد پہلے دور کی رہ جاتی ہے اور ہمارا بجٹ ساڑھے چار لاکھ کا ہے۔پس کچھ تو وعدوں کے لحاظ سے کمی ہوئی ہے اور کچھ ہندوستان سے روپیہ نہ پہنچ سکنے کی وجہ سے کمی ہوئی ہے۔ہمیں اس سال کوشش کرنی چاہیے کہ ہندوستان کے وعدوں کے لحاظ سے ہمارے چندوں میں جو کمی ہوئی ہے اُس کو بھی پورا کریں اور افراد کی سستی اور غفلت نے جو کمی پیدا کی ہے اُس کو بھی دور کریں۔اور پھر پاکستان اور بیرونی دنیا کے وعدوں کو زیادہ سے زیادہ بلند کریں یہاں تک کہ یہ وعدے اُس حد تک