خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 221

$1951 221 خطبات محمود پہنچ جائیں جس حد تک چودھویں سال میں تھے۔بلکہ ہمیں تو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ چودھویں سال میں اگر دو لاکھ تر اسی ہزار کے وعدے آئے تھے تو اب ہمارے وعدے تین لاکھ سے بھی اوپر نکل جائیں اور ساتویں سال کی جماعت اپنے وعدوں کو بڑھا کر دواڑھائی لاکھ تک پہنچا دے۔در حقیقت سیدھی بات تو یہ ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور خدا تعالیٰ نے ہی کرنا ہے۔ہمیں اگر خدمت کی توفیق ملتی ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہم پر فضل نازل ہو رہا ہے اور ہمیں اس کی رضا حاصل ہے۔اور اگر ہمیں خدمت کی توفیق نہیں ملتی تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے خفا ہے اور وہ ہمیں قربانیوں سے محروم کر کے ہمیں سزادے رہا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہوتا ہے جو وہ اپنے بندوں سے خدمت لے لیتا ہے بندوں کا خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں ہوتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ لَّا تَمُنُّوا عَلَى اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدكُمْ لِلإِيمَانِ۔4 تم مجھ پر یہ احسان نہ جتلاؤ کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے۔اسلام قبول کر کے تم نے خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔پس جتنا جتنا کسی کو ثواب کا موقع ملتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اُس کا احسان ہوتا ہے اور خدمت کے مواقع سے محروم ہو جانا یا اس میں کمی واقع ہو جانا یہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا نشان ہوتا ہے۔خواہ دنیا میں کسی کو نظر آئے یا نہ آئے بہر حال جب بھی کوئی شخص قربانی میں کمزور ہوتا ہے وہ مالی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا جانی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا وقت کی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا عزت اور وجاہت کی قربانی سے دریغ کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اُس سے ناراض ہے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ بعض لوگ بے دین اور مرتد ہو جاتے ہیں۔بیشک مرتد ہونے پر وہ یہ کہتا ہے کہ اَلحَمدُ لِلَّهِ میں ہدایت پا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ارتداد سے پہلے اُسے خدمت دین کی توفیق مل رہی تھی ؟ اگر اُس کے حالات کو غور سے دیکھا جائے گا تو یہی معلوم ہوگا کہ وہ نمازوں میں بھی سُست تھا ، چندوں میں بھی سست تھا، قومی کاموں میں بھی سُست تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین کی محبت اُس کے دل سے جاتی رہی، ایمان اُڑ گیا اور ارتداد نے اُس کی جگہ لے لی۔پس جب کسی شخص پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے تو اُسے دین کی خدمت کی توفیق ملتی ہے۔اور جب اس کی قربانیوں میں کمی آجائے تو یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کا اُس سے تعلق کمزور رہا ہے