خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 180

$1951 180 خطبات محمود کر دیتے ہیں جب ان میں ایمان نہیں ہوتا۔پس میرے نزدیک ان خطرات کو دور کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ مولویوں کو افراد کی ذہنیت خراب کرنے سے روکا جائے۔حکومت کی طرح میرا خیال بھی یہ ہے کہ جلسہ کا انتظام ٹھیک نہ تھا۔قادیان میں مساجد میں میری یہ ہدایت تھی کہ پہلی صف میں معروف لوگ بیٹھیں۔اب پہرے لگا دیئے گئے ہیں مگر یہ ہرگز ویسے مفید نہیں۔انسانی فطرت میں یہ بات ہے کہ جب کوئی دوسرا آدمی سامنے ہو تو انسان کسی پر وار کرنے سے گھبراتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ کسی دوسرے شخص کو گولی نہ لگ جائے۔پھر وہ اس وجہ سے بھی گھبراتا ہے کہ اُس کا پہلا وار بھی خالی گیا تو وہ پکڑا جائے گا۔اس لیے منتظمین کو چاہیے تھا کہ وہ جلسہ کا انتظام کرتے وقت اسٹیج کے سامنے معروف لوگوں کو بٹھاتے۔پھر یہ بتایا گیا ہے کہ قاتل نے خان لیاقت علی خان کو مائز ر پستول سے مارا ہے۔وہ بڑا پستول ہوتا ہے اور بڑے پستول کو چھپایا نہیں جاسکتا۔اتنی بڑی چیز لے کر وہ شخص اسٹیج کے سامنے بیٹھا ہوا تھا یا وہ جیب میں ڈالے ہوئے تھا لیکن کسی شخص کو قبل از وقت اس کا علم نہیں ہو سکا۔پھر کہتے ہیں کہ وہ شخص چادر اوڑھے ہوئے تھا۔یہ بات اور بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ہمارے ہاں بھی اتنی احتیاط کر لی جاتی ہے کہ جب کوئی شخص ملاقات کے لیے آئے اور وہ چادر اوڑھے ہوئے ہو تو منتظم اُس کی چادر اتروا دیتے ہیں حالانکہ یہاں ملاقات والے اکثر مرید ہوتے ہیں۔بعض لوگ جو شیلے ہوتے ہیں اور وہ میرے پاس شکایت کرتے ہیں کہ ہماری اس طرح ہتک کی گئی ہے تو میں انہیں سمجھا تا ہوں کہ آپ تو مخلص ہیں لیکن کوئی بد معاش بھی تو اس طرح یہاں آ سکتا ہے۔پچھلے دنوں مسلم لیگ کے ایک ممبر مجھے ملنے آئے۔وہ مجھے اندر آتے ہی کہنے لگے کہ وہ اپنا پستول باہر چھوڑ آئے ہیں۔کیونکہ انہوں نے پسند نہیں کیا کہ پستول لے کر اندر آئیں۔اور در حقیقت یہ عام اور ضروری احتیاط ہے۔لیکن اُس شخص کے پاس مائز ر پستول تھا جو بڑے سائز کا ہوتا ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پستول پکڑے ہوئے ہے یا اُس کی جیب میں کوئی بڑی چیز ہے۔پھر جب وہ شخص فائر کرتا ہے تب بھی اُسے کوئی نہیں دیکھتا۔پھر وہ دوسرا فائر کرنے کی بھی جرات کرتا ہے۔اس سے طبہ پڑتا ہے کہ اُس کے دائیں اور بائیں اُس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔یہ امر اور بھی خطرناک ہے کہ وہ آدمی مارا گیا۔تمام متمدن دنیا میں ایسے آدمی کو مارا نہیں جاتا۔تا سازش پکڑی جائے۔اس سے یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید اُس کے ساتھی کا کوئی دوسرا ساتھی بھی تھا۔انارکسٹ اسی طرح