خطبات محمود (جلد 32) — Page 179
$1951 179 خطبات محمود میں گاندھی جی کو جنہیں وہاں نبی کوقت کہا جاتا تھا مار دیا گیا ہے۔اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ مولویوں اور پنڈتوں نے یہ شور ڈالنا شروع کیا ہے کہ جب تمہیں کسی شخص سے اختلاف پیدا ہو جائے تو فوراً قانون ہاتھ میں لے لو۔یہ ذہنیت جتنی جتنی پھیلتی جائے گی اتنی اتنی پولیس اور فوج بریکار ہوتی جائے گی۔پولیس اور فوج محدود ہوتی ہے اور وہ ایک حد تک ملک میں کنٹرول کر سکتی ہے۔صوبہ پنجاب کی پولیس کوئی آٹھ دس ہزار ہے لیکن آبادی دو کروڑ ہے۔اب آٹھ دس ہزار پولیس سے یہ اُمید کرنا کہ وہ دو کروڑ کی نگرانی کر سکے گی درست نہیں۔صوبہ میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصدی مجرم ہو سکتے ہیں۔گویا کوئی دس لاکھ آدمی ایسے ہو سکتے ہیں جو لوٹ مار، ڈاکے ، نقب زنی اور قتل و غارت کو جائز سمجھتے ہیں۔ان دس لاکھ آدمیوں کو پولیس کہاں سنبھال سکتی ہے۔اسی واسطے ملک میں کوئی چھ سات ہزار چوری ہوتی ہے لیکن کوئی نہیں کہتا کہ ایسا کیوں ہے۔کیونکہ اس قدر نگرانی کی پولیس سے امید ہی نہیں کی کی جاسکتی۔یہ فردی خرابی ہے اور فرد کی نگرانی نہیں کی جاسکتی۔اگر کوئی قومی خیال ہوتا ہے تو اُس تنظیم کا کوئی پریذیڈنٹ ہوتا ہے، کوئی سیکرٹری ہوتا ہے اور اس طرح اُس کا پتا چل جاتا ہے۔لیکن جہاں فرد کے دماغ کو بگاڑ دیا جائے وہاں کوئی پولیس کام نہیں دے سکتی۔مثلاً اگر کوئی کمیونسٹ جماعت ہو تو اُس کا کوئی پریذیڈنٹ ہوگا ، کوئی سیکرٹری ہوگا اور کوئی کنوینر ہوگا اور اس سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ لوگ فلاں فلاں ہیں اور فلاں فلاں جگہ ان کا مرکز ہے اور پھر ان کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر کوئی فرد کوئی ارادہ کرے تو اُس کی نگرانی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کی سکیم اس کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں کہ اُسے معلوم کیا جا سکے۔مثلاً کوئی پریذیڈنٹ نہیں، کوئی سیکرٹری نہیں ، کوئی دفتر نہیں جس میں جمع ہونے والوں سے معلوم ہو سکے کہ کچھ لوگ مل کر کوئی کام کر رہے ہیں اور اس سے اُن کی نگرانی کی صورت پیدا ہو جائے۔یہاں بھی چونکہ ایک فرد تھا جس نے خباثت کی اس لیے اُس کی خباثت کا قبل از وقت پتا نہیں لگ سکا تھا۔سب باتیں اس کے دماغ میں تھیں۔پس فرد کے دماغ کو بگاڑ دینے سے امن بر باد ہوتا ہے۔جب کوئی سازش تنظیم سے ہوتی ہے تو اُس کا پتا لگا نا آسان ہوتا ہے لیکن جب افراد کے دماغ بگڑ جائیں تو کوئی چیز اُن کی نگرانی نہیں کر سکتی۔چونکہ مولویوں نے افراد کے دماغوں کو گندہ کر دیا ہے اس لیے مزید خباثت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ان مولویوں کو روکا جائے۔یہی لوگ دماغ کو صحیح بنانے والے بھی ہیں بشرطیکہ ان میں ایمان ہو۔اور یہی لوگ دماغ کو گندہ