خطبات محمود (جلد 32) — Page 181
$1951 181 خطبات محمود کرتے ہیں۔وہ جب کسی شخص کو کسی لیڈر کے مارنے پر مقرر کرتے ہیں تو ایک اور شخص کو اُس کے پرمن مارنے پر بھی مقرر کر دیتے ہیں تا وہ پکڑا نہ جائے۔لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لوگوں نے قاتل کو پیٹ پیٹ کر مار دیا تھا۔اگر ایسا ہوا تو یہ اور بھی افسوسناک امر ہے کیونکہ اس سے سازش کے کھلنے کا امکان بہت کم ہو گیا۔پولیس کو فوراً اُس شخص کے گردگھیرا ڈال لینا چاہیے تھا اور اُسے زندہ گرفتار کرنا چاہیے تھا تا اُس کے ذریعہ سے اصل سازش کا سراغ مل سکتا۔اُس کا بچا نا اُس کی خاطر ضروری نہیں تھا بلکہ اُس کا بچانا ملک کی خاطر ضروری تھا تا اس سے سازش کا پتا لگایا جاتا۔ممکن ہے تحقیقات سے یہ معلوم ہو کہ حفاظت کا ہر ممکن انتظام کر دیا گیا تھا اور یہ محض وہم ہے کہ اس میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔بلکہ یہ اتفاقی حادثہ تھا جو ہو گیا۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مجرم بھی مل جائے۔لیکن اس سے یہ امر حل نہیں ہو سکتا کہ مولویوں نے افراد کی ذہنیت خراب کر دی ہے۔جب تک یہ ہوتا رہے گا اور قانون ہاتھ میں لینے کا وعظ ہوتا رہے گا نہ پولیس کام دے سکے گی نہ فوج۔کیونکہ جب افراد کے ذہنوں کو گندہ کر دیا جائے اور قانون کے ادب کو ختم کر دیا جائے اور اختلاف کی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی تعلیم دی جائے تو پھر کس کس پر شبہ کیا جائے گا یا کس کس کو شبہ سے بالا سمجھا جائے گا۔اس صورت میں خود وزراء کے ایڈی کانگوں پر بھی شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید ان کے دل میں بھی قتل کا خیال ہو کیونکہ اگر افراد کی ذہنیت کو بگاڑ دیا جائے تو پھر خواہ کوئی سیکرٹری ہو یا ایڈی کا نگ وہ اپنے افسر سے ناراض ہوسکتا ہے اور اختلافِ رائے کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ کر سکتا۔ہے۔جن ملکوں میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ حکومت کا کام ہے کہ کسی شخص کو مجرم قرار دے افراد کو یہ اختیار حاصل نہیں وہ ملک پر امن ہیں۔اس قسم کی پابندی سب سے زیادہ انگلستان میں ہے اور وہ پر امن ہے۔امریکہ کتنی بڑی جمہوریت ہے لیکن وہاں افراد پر کنٹرول نہیں کیا جاتا اس لیے وہاں فساد ہوتے ہیں۔جرمنی والے بھی قانون کے پابند ہیں اس لیے وہاں فساد نہیں ہوتے۔بیشک ہٹلر کے وقت میں حکومت کی طرف سے رعایا پر سختیاں ہوئیں لیکن یہ کہ افراد ایک دوسرے پر سختی کریں یہ کبھی نہیں ہوا۔اور ملکوں میں بھی یہ طریق پایا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ محفوظ انگلستان ہے اور اس کے بعد جرمنی ہے۔پھر دوسرے ممالک میں انسانوں کے ہاتھوں سے مارے جانے والے بالعموم وہ ہوتے ہیں جو ملک میں بدنام ہوتے ہیں۔لیکن یہاں اندھیر یہ ہے کہ ہندوستان میں گاندھی جی کو مارا جاتا۔سے