خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 178

1951ء 178 خطبات محمود مارنے کو جائز قرار نہیں دیتی ۔ مارنے کا جواز جھوٹا مذہب دیتا ہے۔ کیونکہ مولوی گھلے بندوں اسٹیج پر چڑھ کر یہ کہتا ہے کہ جس شخص کی بات تمہیں بُری لگے تو تم اُسے مار دو۔ سننے والے اس نکتہ کو وسیع کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر بھی یہ فتوی لگا دیتے ہیں ۔ جب تک حکومت اس منبع کو ختم نہیں کرتی ملک میں امن قائم نہیں رہ سکتا ۔ حکومت نے ایک کمیشن مقرر کیا ہے جو اس بات کی تحقیقات کرے گا کہ حفاظتی تدابیر میں کیوں کوتاہی ہوئی ہے؟ میں نے بھی جب یہ خبر سنی تھی تو مجھ پر یہی اثر تھا کہ منتظمین نے پوری طرح نگرانی نہیں کی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ حکومت پر بھی یہی اثر ہے۔ لیکن تم کتنی بھی ہوشیاری کر لو جب افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ جس کسی سے اختلاف ہو تم اُسے مار دو تو کونسی طاقت ہے جس کے ذریعہ تم کسی کو آٹھ کروڑ افراد سے بچالو۔ لاہور میں جو صوبہ کی حکومت کا مرکز ہے وہاں آ کر احراری علماء نے یہ حدیثیں سنائیں کہ تم جو چیز ناپسندیدہ دیکھوا سے ہاتھ سے دور کر دو۔ اگر تم ہاتھ سے دور نہیں کر سکتے تو زبان سے اُس کی مذمت کرو اور اگر تم زبان سے بھی اُس کی برائی نہیں کر سکتے تو دل میں ہی بر امناؤ۔ اور ان کو احمدیوں پر چسپاں کر کے کہا گیا اے باغیرت مسلمانو! کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا بدلہ نہیں لیتے ؟ ان مجالس میں جن میں یہ حدیثیں سنائی جاتی تھیں حکومت کے وزراء اور اُس کے سیکرٹری موجود ہوتے ہیں۔ جب گھلے بندوں اور حکومت کے ذمہ دار کارکنوں کے سامنے یہ سنایا جاتا تھا کہ اختلاف کا ازالہ جبر اور تعدّی سے کرنا جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہے اور اگر تم اختلاف کا ازالہ نہیں کرتے تو تم کافر ہو جاؤ گے۔ جب ملک کے آٹھ کروڑ باشندوں میں یہ احساس پیدا کر دیا جائے تو پولیس تو ایک فرد سے بچا سکتی ہے، دو افراد سے بچا سکتی ہے یا ہیں افراد سے بچا سکتی ہے لیکن جب یہ شک ہو کہ ایڈی کا نگ 4 اور پولیس والوں نے بھی علماء سے یہ سبق لیا ہے کہ جس کسی سے اختلاف ہو اُسے قتل کر دو تو کسی کی جان کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ سو جب تک مولویوں کو بند نہیں کیا جائے گا کسی کی حفاظت نہیں ہو سکے گی، نہ میری، نہ کسی وزیر، گورنر یا کمانڈرانچیف کی ۔ انگلستان کی حکومت سینکڑوں سال سے قائم ہے لیکن ابھی تک اُس میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ کوئی وزیر قتل کر دیا گیا ہو۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں بعض افسروں پر حکومت کو شبہ پڑ جاتا ہے کہ وہ زور سے حکومت کا تختہ اُلٹ دینا چاہتے ہیں۔ اگر چہ ابھی مقدمہ چل رہا ہے لیکن بہر حال اس قسم کا واقعہ ہو چکا ہے اور اُدھر ہندوستان