خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 177

$1951 177 خطبات محمود لیکن مجھے یہ مضمون خطبہ جمعہ میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔میں اس کے متعلق الگ مضمون بھی لکھ سکتا تھا۔میں نے اس مضمون کو خطبہ جمعہ میں بیان کرنے کے لیے اس لیے انتخاب کیا کہ اس کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔یعنی یہ فعل نتیجہ تھا اسلام کی تعلیم کو بگاڑنے کا، یہ فعل تھا احراریوں کے وعظوں کا کہ احمدیوں کو قتل کر دو۔جس قوم میں یہ روح پیدا کر دی جائے کہ جس کسی سے تمہیں اختلاف ہو تم اُسے خود قتل کر دو تو ملک کا کوئی آدمی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔مثلاً ایک احراری کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ احمدیوں کو مار دو لیکن ایک دوسرا شخص جس کو احمدیوں سے بغض نہیں ہوتا وہ جب یہ سمجھتا ہے کہ جس کسی سے اختلاف ہوا سے خود مار دینا چاہیے۔تو وہ کسی دوسرے شخص کو جس سے اُسے اختلاف ہو گا مار دے گا۔پس میں کہتا ہوں کہ بیشک قومی لحاظ سے خان لیاقت علی خان کا قتل نہایت افسوس کی بات ی ہے اور سیاسی لحاظ سے یہ امر ملک کے لیے نہایت نقصان دہ ہے لیکن اس کا مذہبی پہلو اور بھی خطر ناک می ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری سیاست تو گئی تھی اب مذہب پر بھی حملہ ہو گیا ہے اور دنیا کہتی ہے کہ ہم وحشی ہیں اور جسے چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں۔کسی نے کہا ہے زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا سیاست پر تو ہمارے حملہ ہوا ہی تھا اب مذہب پر بھی حملہ ہو گیا ہے۔دنیا اس بات سے غافل نہیں کہ احراری کیا کہتے ہیں۔احراری مولوی عَلَی الْإغلان اسٹیجوں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ تم احمد یوں کو قتل کیوں نہیں کرتے لیکن کوئی انہیں منع نہیں کرتا۔حکومت کا نظام موجود ہے، گورنر جنرل اور سنٹرل کے وزراء اور صوبائی گورنر اور صوبائی وزراء اور دوسرے سیکرٹری موجود ہیں لیکن احراری اس کے باوجود اسٹیجوں پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ حکومت اپنے فرض کو ادا نہیں کر رہی۔اے جانباز مسلمانو ! تم خود رسول کریم کی ہتک کا بدلہ لو (حالانکہ یہ احراری خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرنے والے اور جنگ اسلام ہیں ) اور احمدیوں کو قتل کر دو۔اور جب یہ فتوی رعایا کے سامنے لایا جائے گا کہ اسلام، قرآن کریم اور قانون سب اس بات پر متفق ہیں کہ جس کسی سے تمہیں اختلاف ہو تم اُسے مار دو تو صرف احمدیوں کو ہی نہیں مارا جائے گا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی جن سے کسی کو اختلاف ہوگا مار دیا جائے گا۔خان لیاقت علی خان سیاسی اختلاف کی وجہ سے نہیں مارے گئے کیونکہ سیاست دوسرے شخص کے