خطبات محمود (جلد 32) — Page 102
خطبات محمود اور خدا تعالیٰ کی محبت کو بڑھاؤ۔ 102 1951ء میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت طبعی سبقوں کی طرف کم توجہ کرتی ہے اور دنیوی فلسفیوں کی طرف زیادہ توجہ رکھتی ہے۔ ہماری جماعت کے کتنے واعظ ہیں جن کے وعظوں میں اس بات پر زور دیا۔ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق ، حضرت اسماعیل ، حضرت یوسف اور حضرت موسی علیهم السلام کی طرح تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔ کتنے واعظ ہیں جو ان واقعات کو بیان کر کے یہ بتاتے ہوں کہ وہ خدا جس نے فلاں موقع پر نشان دکھائے اب بھی تمہارے حق میں اپنے محبت بھرے تعلقات کا اظہار کرے گا۔ دُور نہ جاؤ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات اور نشانات کے دہرانے سے بھی ایمان بڑھتا ہے۔ جس طرح بار بار کے یاد کرنے سے ایک چہرہ سامنے آ جاتا ہے اسی طرح ان نشانات اور معجزات کے پڑھنے سے ایک ایماندار کا دل دھڑکنے لگ جاتا ہے۔ بھول جاؤ مخالفت کو ۔ کیونکہ تمہارا بھی وہی خدا ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کا خدا تھا، جو حضرت موسی علیہ السلام کا خدا تھا، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تھا یا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خدا تھا اور درمیان میں جو دوسرے بزرگ گزرے ہیں اُن کا خدا تھا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہارے حق میں بھی وہی نشانات دکھائے جو اس نے ان نبیوں اور بزرگوں کے حق میں دکھائے تھے تو ان واقعات کو بار بار دہراؤ۔ گاہے گاہے بازخواں ایں قصہ پارینہ را قرآن کریم نے ہمیں یہ سبق دیا ہے۔ اگر ایک دفعہ بات کرنا کافی ہوتی تو وہ ان واقعات کو بار بار نہ دہراتا۔ وہ تو ان واقعات کو اتناد ہراتا ہے کہ یورپین مصنفین کا قرآن کریم پر سب سے بڑا یہ اعتراض ہے کہ اس میں تکرار پایا جاتا ہے۔ بے شک انہیں قرآن کریم پر یہ اعتراض ہونا چاہیے کیونکہ وہ غیر ہیں ۔ غیر جب ماں کو بچہ کے ساتھ پیار کرتے دیکھتا ہے ، اُس کے پیار کی باتوں کو سنتا ہے تو کہتا ہے ایک دفعہ ہو گیا یہ کیا بار بار ایک ہی بات کو دہرایا جاتا ہے۔ آخر کوئی حساب بھی ہو۔ لیکن ماں اُسے اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتی جس نقطہ نگاہ سے اُسے غیر دیکھتا ہے۔ تمہیں بھی قرآن کریم کو غیر کے نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اُسی طرح دیکھنا چاہیے جس طرح بچہ ماں کی پیار بھری باتوں کو سنتا کی محبت کو محسوس کرتا ہے۔ جس طرح ماں جب بچہ سے پیار کرتی ہے تو فطرت