خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 74

$1951 74 خطبات محمود دنیا میں دوسرے لوگوں کی آپس میں محبت ہوتی ہے ویسے ہی خدا تعالیٰ کی محبت بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر کوئی روک ہوگی تو صرف یہ کہ تمہیں معلوم نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے تم پر کیا احسان کیا ہے۔اگر واقع میں تمہیں یقین ہو جائے کہ خدا تعالیٰ تمہارا حسن ہے اور یہ نکتہ سمجھ آ جائے کہ سب سے بڑا محسن تمہارا خدا تعالیٰ ہے تو لازما محبت الہی خود بخود پیدا ہو جائے گی۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اپنے اندر یہ یقین پیدا کر لے کہ خدا تعالیٰ اُس کا سب سے بڑا محسن ہے۔وہ اس کے احسانات کو گنے ، ان پر غور کرے ،سوچے اور انہیں دل میں جمانے کی کوشش کرے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے شریعت نے اس کے لیے ایک آسان گر مقرر کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی کام کرو، کھانا کھاؤ، پانی پیو یا کوئی اور کام کر و اُس سے پہلے بسم اللہ پڑھا لیا کرو 1 اور بسم اللہ پڑھنے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ سب نعمتیں خدا تعالیٰ نے ہی دی ہیں۔پھر جب وہ کام ختم کرو تو الحَمدُ لِلهِ کہو۔2 اگر اس نکتہ کو مسلمان سمجھتے اور اگر ایک مسلمان بچپن میں ہی ان باتوں کا عادی ہو جاتا تو یقینا کچھ عرصہ کے بعد یہ باتیں راسخ ہوتی ہوتی اُس کے اندر گڑ جاتیں اور یہ سوال پیدا ہی نہ ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی محبت کس طرح پیدا کی جائے۔خدا تعالیٰ کے ہم پر احسان ہیں یا نہیں ؟ اس کے احسان تو بچوں کے دلوں میں بھی گڑ جاتے ہیں۔میں نے بچوں اور جوانوں سے اس بارے میں سوالات کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ واقع میں اس بارہ میں غفلت برتی جارہی تھی یا غفلت برتی جارہی ہے۔اکثر نے مجھ سے کہا ہے کہ ہمیں اس مسئلہ کا علم تو ہے لیکن ہم اسے اکثر بھول جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ماں باپ نے یہ بات اُن کے ذہن نشین نہیں کرائی۔انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ یہ معمولی بات ہے۔اگر کر لیا تو خیر ورنہ اس کے نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبت الہی اس ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے۔اگر محبت الہی کوئی اہم نکتہ ہے تو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی نہایت اہم ہیں کیونکہ انہی سے محبت الہی پیدا ہوتی ہے۔پس نو جوان خود بھی ان باتوں کی اپنے اندر عادت پیدا کریں اور پھر بچوں کے اندر ان باتوں کی عادت پیدا کریں، پھر استاد شاگردوں کے اندر اس کی عادت پیدا کریں۔سپرنٹنڈنٹوں کو چاہیے کہ وہ بورڈنگوں کے طلباء کے درمیان یہ عادت پیدا کریں، مجلس کو مجلس کے ممبران کے اندر اور دوست کو پنے دوستوں میں ان باتوں کی عادت پیدا کرنی چاہیے۔ایک دوسرے کے تعاون اور مدد سے یہ خیال