خطبات محمود (جلد 32) — Page 75
$1951 75 خطبات محمود رکا ہو جائے گا اور ان باتوں کی عادت پیدا ہو جائے گی اور عادت کے نتیجہ میں قلوب میں محبت پیدا ہو جاتی ہے۔دوسری چیز جس سے محبت پیدا ہوتی ہے وہ حسن ہے۔در حقیقت اگر ہم محبت کا تجزیہ کریں تو اس کے صرف یہ معنے ہوتے ہیں کہ ایک چیز دوسری چیز کو اپنانا چاہتی ہے اور یہ جذبہ ہی اصل میں محبت کہلاتا ہے۔جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ چیز میری ہے یا وہ یہ سمجھے کہ میں فلاں کا ہوں تو اسی کا نام محبت ہوتا ہے۔اور یہ جذبہ کہ فلاں چیز میری ہو جائے ہمیشہ حسن سے پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے لیے بھی یہی چیز استعمال ہو سکتی ہے۔نئے نکتے بنانے اور نئے گر بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ہم بازار میں جاتے ہیں۔کسی دکان پر ہمیں ایک نئی اور عمدہ جوتی نظر آتی ہے۔اُسے دیکھ کر ہمیں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ میں یہ جوتی لے لوں۔عورتیں بازار میں سے گزرتی ہیں اور دکانوں پر کپڑے دیکھتی ہیں تو خیال کرتی ہیں کہ اگر پیسے ہوں تو فلاں کپڑا خرید لیں۔سنگار کی کوئی چیز دیکھتی ہیں یا فرنیچر اچھا دیکھتی ہیں تو ی خیال کرتی ہیں کہ کاش! یہ چیزیں اُن کی ہو جائیں۔ایک جاندار چیز کے لیے جس چیز کو ہم ”محبت“ کہتے ہیں بے جان کے لیے ہم اُسی کے لیے پسند کا لفظ بولتے ہیں۔ایک عورت اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے یا اسے کسی جوتے کی وضع پسند ہوتی ہے تو وہ کہتی ہے یہ جو تا خریدلوں، اسے کوئی زیور پسند ہے تو اسے لینے کی وہ خواہش کرتی ہے، دکان پر کمخواب 3 دیکھتی ہے تو اسے خریدنے کو اُس کا جی چاہتا ہے۔گویا لفظ ”پسند“ اور ”محبت“ ایک ہی چیز ہے لیکن ہمارے ملک میں عام طور پر پسند کا لفظ بے جان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ”محبت“ کا لفظ جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ب پسند کا طریق یہی ہے کہ کوئی اچھی چیز نظر آتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ اُسے حاصل کیا جائے۔اگر وہ چیز اُس کی طاقت کے مطابق ہے تو وہ اُسے خرید لیتا ہے اور اگر وہ اس کی طاقت سے بالا ہوتی ہے تو وہ اسے پسند تو کر لیتا ہے لیکن اس کے حصول کی خواہش دل سے نکال دیتا ہے۔مثلاً ایک شخص بازار جاتا ہے اور دکان پر کوئی کپڑا دیکھ کر اُس کا بھاؤ پوچھتا ہے اور دکاندار اسے بتاتا ہے کہ یہ کپڑا دس روپے یا بارہ روپے فی گز ہے۔وہ سوچتا ہے کہ میں تو ایک غریب شخص ہوں۔ایک دو روپے فی گز ہوتا تو میں خرید بھی لیتا لیکن اب تو یہ میری طاقت سے باہر ہے۔اس لیے وہ اس کے خریدنے کا خیال دل سے نکال دیتا ہے لیکن بہر حال اسے پسند کر لیتا ہے۔گویا جہاں کوئی اچھی چیز نظر آئے گی انسان اسے پسند