خطبات محمود (جلد 32) — Page 72
$1951 72 خطبات محمود ماں باپ کی محبت کے ساتھ کیا تعلق ہے لیکن خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کا سوال آتا ہے تو تم گر پوچھنے لگ جاتے ہو اور وہی بے جوڑ بات تمہیں درست معلوم ہونے لگ جاتی ہے۔غرض تعلق باللہ کا یہ ایک بڑا نسخہ ہے جو میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا اور میر امنشا تھا کہ آج کوئی نئی چیز بیان کروں لیکن میری طبیعت اچھی نہیں۔اچھا ہوا کہ میں نے پچھلے خطبہ کے مضمون کو پھر دہرا دیا۔نقش ثانی نقشِ اوّل سے اچھا ہوتا ہے۔پھر کسی موقع پر اور باتیں بیان کروں گا۔اب صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے بچوں کو یہ باتیں سکھاؤ اور پھر ان کا مطلب سمجھاؤ۔جب تم ہر کام سے پہلے بسم اللہ کہو گے تو انہیں خیال پیدا ہو گا کہ اصل احسان خدا تعالیٰ کا ہے کہ اس نے ہمیں کھانے کو دیا، پینے کو دیا، پہننے کو دیا۔بسم اللہ کہ کر ہم اقرار کرتے ہیں کہ بیشک روٹی ماں نے پکا کر دی ہے، بیشک روٹی بیوی نے پکا کر دی ہے لیکن گندم خدا تعالیٰ نے دی ہے۔یا تم کہتے ہو کہ روٹی تو ماں نے پکائی ہے اور پیسے باپ نے دیئے ہیں لیکن ماں کو ہاتھ خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں۔اگر خدا تعالی ہاتھ عطا نہ کرتا ہے تو وہ روٹی کس طرح پکاتی ؟ اسی طرح جب بھی کوئی چیز شروع کرنے سے پہلے تم بسم اللہ پڑھو گے تو خدا تعالیٰ کا احسان تمہیں یاد آ جائے گا اور اس طرح تمہارے دل میں اُس کی محبت پیدا ہو گی اور محبت طبعی طریق سے پیدا ہوگی غیر طبعی طریقوں سے نہیں۔تم اگر دروازے کے ذریعہ مکان میں داخل نہیں ہوتے بلکہ دیوار پھاند کر آتے ہو تو یہ طبعی طریق نہیں۔اس سے بجائے فائدہ کے تمہیں نقصان ہو گا۔ہوسکتا ہے تمہاری ٹانگیں ٹوٹ جائیں یا کوئی اور نقصان پہنچ جائے یا ہو سکتا ہے کہ کوئی تمہیں چور سمجھ لے اور وہ تمہیں پکڑ وادے اور حکومت سے سزا دلوائے۔غرض یہ چھوٹے چھوٹے رستے ہی طبعی راستے ہیں جو انسان کے لیے نجات اور محبت الہی کے پیدا کرنے کا موجب ہوتے ہیں“۔الفضل 13 جولائی 1951 ء) 1: كنز العمال في سنن الاقوال والافعال جلد 16 صفحه 48۔حدیث نمبر 44095 بيروت لبنان 1998ء 2 : صحيح بخارى كتاب الأطْعِمَة بابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ