خطبات محمود (جلد 32) — Page 71
$1951 71 خطبات محمود سکھائی اور اُن تمام رستوں کا جو تو نے مجھے ماں کے پیٹ سے ہی سکھانے شروع کیے تھے شکریہ ادا کرتا ہوں۔پھر وہ بسم اللہ کہہ کر اپنے ماں باپ، بہن بھائی ، بیٹا بیٹی، بادشاہ رعایا بلکہ جانوروں اور نباتات اور جمادات جن کے ذریعہ اُسے کھانا پہنچتا ہے سب کو اکٹھا کر کے کہتا ہے اے خدا ! میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تیری ہی طرف سے ہے۔اب دیکھو! یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے لیکن یہ ایک طبعی رستہ ہے۔اب کوئی کہے کہ ماں سے محبت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ تو ہم اسے کہیں گے یہ تو سیدھی سادی بات ہے۔ماں تمہیں دودھ پلاتی ہے اور تم اسے روزانہ دودھ پلاتے دیکھ کر اُس سے محبت کرنے لگ جاتے ہو اس میں نیا گر کیا ہے۔دنیا میں تم سے کوئی انسان بھی نہیں پوچھے گا کہ ماں کی محبت پیدا کرنے کا کیا گر ہے؟ لوگ بیوی سے محبت کرتے ہیں، ماں باپ سے محبت کرتے ہیں، بہن بھائیوں سے محبت کرتے ہیں، اولاد سے محبت کرتے ہیں اور تم کبھی دوسروں سے ان کی محبت پیدا کرنے کا گر نہیں پوچھتے۔صرف اس لیے کہ یہ محبت ہم اس طبعی ذریعہ سے پیدا کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے بنایا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے معاملہ میں لوگ تماشا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو بتائیے کہ تعلق باللہ پیدا کرنے کا کونسا گر ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ تعلق باللہ کے لیے کسی خاص طریق پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور امید رکھتے ہیں کہ انہیں بتایا ہے جائے گا کہ قبرستان میں جاؤ اور ٹانگیں آسمان کی طرف کر کے لٹک جاؤ یا پانی میں ریت ملا کر پیا کرویا صبح اٹھ کر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر فلاں منتر پڑھا کرو تو خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی حالانکہ ان چیزوں کو خدا تعالیٰ کی محبت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔سیدھی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا احسان مخفی ہے جس کی وجہ سے تمہارے اندر اس کی محبت پیدا نہیں ہوتی۔تم اس کے احسانات کو نمایاں طور پر اپنے سامنے لاؤ تو اس کی محبت پیدا ہو جائے گی اور اسے نمایاں طور پر سامنے بسم اللہ اور الحمد لله لاتی ہیں اس میں کسی گر کی ضرورت نہیں۔لیکن لوگ اسے بھول جاتے ہیں اور گدی نشینوں ، مولویوں اور پیروں کے پاس سالہا سال تک بیٹھے رہتے ہیں کہ وہ کبھی خوش ہو کر انہیں بتائیں کہ تم ایک ٹانگ پر کھڑ۔ہوکر فلاں وظیفہ پڑھا کرو تو خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی۔یہ طریق غیر طبعی ہے۔تم کبھی یہ نہیں کہتے کہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر تم فلاں وظیفہ پڑ ھوتو ماں کی محبت پیدا ہو جاتی ہے یا اپنی نگی پیٹھ پرس کوڑے مارو تو باپ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔اگر تمہیں ایسا کہا جائے تو تم کہو گے ان چیزوں کا