خطبات محمود (جلد 32) — Page 59
$1951 59 خطبات محمود پیدا ہو جاتی ہے۔یا کوئی استاد ہے ایک شخص اُس سے پڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ استاد اس کی حالت اچھی بنا رہا ہے، اس کی بدولت وہ روزی کمانے لگ جائے گا اور دنیا میں وہ عزت حاصل کرے گا۔اس کے بعد اس کے دل میں استاد کے لیے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔یا پھر کسی چیز کے حسن اور اس کی ذاتی خوبی کی وجہ سے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔غرض پاس رہنا یا حسن یا احسان آپ ہی آپ قلوب میں تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں اور انسان کو کسی حسین محسن یا اپنے ساتھ رہنے والے سے محبت ہو جاتی ہے اور یہ ہم میں سے ہر ایک کا تجربہ ہے۔آدمیوں کو جانے دو جانوروں کو دیکھ لو۔گتا ہے ، بلی ہے یا بعض لوگ خرگوش پالتے ہیں ، طوطا اور مینار کھتے ہیں۔ان سب جانوروں کو اپنے پالنے والے سے محبت ہو جاتی ہے۔وہ اس آدمی سے جو انہیں روٹی ڈالتا ہے یا جس کے پاس وہ رہتے ہیں پیار کرنے لگ جاتے ہیں۔مثلاً بلی کو جگہ سے محبت ہوتی ہے گھر والے کہیں چلے جائیں تب بھی بلی اُس جگہ کو نہیں چھوڑے گی۔گتے کو اپنے مالک سے محبت ہوتی ہے مالک کہیں چلا جائے گتا وہیں چلا جاتا ہے۔طوطا اور مینا جو لوگ پالتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنے پالنے والے سے کس قدر انس ہو جاتا ہے۔انہیں خواہ پنجرے سے نکال بھی دیا جائے تب بھی وہ کہیں نہیں جائیں گے وہیں بیٹھے رہیں گے۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ احسان کو متواتر دیکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے لیکن انہیں اس طرف توجہ دلائی نہیں جاتی۔ماں باپ سے ہر ایک انسان محبت کرتا ہے اس لیے کہ ان کی طرف آپ ہی آپ توجہ ہو جاتی ہے اور وہ خود بھی اسے یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ہم تمہارے خیر خواہ ہیں۔لیکن استادوں سے لوگوں کو بہت کم محبت ہوتی ہے اس لیے کہ وہ عام طور پر اپنے احسانات کو دہراتے نہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات ماں اور استاد سے بھی زیادہ مخفی ہے۔اس لیے وہاں توجہ کی زیادہ ضرورت ہے۔اس کی محبت پیدا کرنے اور اس کے قُرب کو حاصل کرنے کے لیے چیزیں وہی ہیں، گروہی ہیں لیکن ضرورت صرف توجہ کی ہے۔بعض موٹی موٹی چیزیں ہیں جن پر لوگ عمل نہیں کرتے۔اس لیے وہ رب الہی سے محروم رہتے ہیں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب کھانا کھاؤ تو پہلے بِسمِ اللهِ پڑھ لیا کر و۔1 اب کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہنے کے یہی معنے ہیں کہ یہ کھانا