خطبات محمود (جلد 32) — Page 58
$1951 58 خطبات محمود چھوٹی چھوٹی چیزیں نظر آئیں گی جن سے کوئی شخص تمہارا دوست بن گیا تھا اور تم دوسروں کے دوست بن گئے تھے۔تمہیں نظر آئے گا کہ مثلا تم دونوں کسی جگہ اکٹھے رہے یا کسی اسکول میں یا ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور قریب رہنے سے آہستہ آہستہ تمہارے تعلقات بڑھتے گئے اور بغیر اس کے کہ کوئی خاص جہد و جہد کرنی پڑتی تم دونوں آپس میں دوست بن گئے یا تم دونوں ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے اور صبح سویرے اکٹھے بیل لے کر کھیت میں جایا کرتے تھے۔اسی طرح آہستہ آہستہ تم دونوں میں دوستی ہو گئی اور اس میں کسی خاص جد و جہد کی ضرورت پیش نہ آئی۔یہی حال خدا تعالیٰ کا بھی ہے۔جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ اکٹھا رہتا ہے تو خدا اور اس کے درمیان دوستی پیدا ہو جاتی ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں جاہل ہوں اس لیے مجھے ان ذرائع کا علم نہیں جن کے ذریعہ محبت الہی پیدا کی جاسکتی ہے۔ہر جاہل سے جاہل اور ادنیٰ سے ادنی شخص کا بھی کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے۔آخر وہ دوست کیسے بن گیا؟ جس طرح وہ اس کا دوست بن گیا ہے اسی طرح وہ خدا تعالیٰ کا دوست بھی بن سکتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میرا کوئی دوست نہیں۔صدمہ اور تکلیف کے وقت بعض دفعہ انسان کہہ دیا کرتا ہے کہ دنیا میں میرا کوئی دوست نہیں لیکن اس کے معنے نہیں ہوتے کہ اُس کا واقع میں کوئی دوست نہیں بلکہ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اُس کے دوست اس قابل نہیں کہ اس صدمہ میں اُس کی مدد کر سکیں۔ویسے دوست ہوتے ضرور ہیں چاہے وہ اس جیسے بے کس اور بے بس ہوں۔در حقیقت دنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں جس نے دل لینے یا کسی کو اپنا دل دینے کا تجربہ نہ کیا ہو اور وہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس کا کیا طریق ہے۔ہر جاہل سے جاہل اور ادنیٰ سے ادنی آدمی بھی جانتا ہے ہے کہ دنیا میں کسی کو اپنا دل کیسے دیا جاتا ہے اور دوسرے کا دل کیسے لیا جاتا ہے۔یہی چیز جو اس جگہ تجربہ میں آئی ہے خدا تعالیٰ کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے یا پھر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی شخص نے ایک دوسرے شخص سے اتفاقاً کوئی نیکی کر دی اور یہ چیز اس کی دوستی کا موجب ہو گئی۔مثلاً شریف الطبع ان لوگ ماں باپ سے محبت کرتے ہیں۔آخر اس کی کیا وجہ ہوتی ہے؟ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ماں دودھ پلاتی ہے اور بچہ اُس کا دودھ پیتا ہے اور بغیر سوچنے کے یہ معلوم کر لیتا ہے کہ یہ دودھ اُسے اُس کی ماں دے رہی ہے۔اسی طرح ایک لمبے عرصہ تک اسے دیکھنے کے بعد اس کے دل میں اس کی محبت