خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 51

$1951 51 خطبات محمود اس نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ مہاجر ہیں۔گورنمنٹ ان کے لیے کوئی انتظام کرتی تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔میں نے موٹر کو وہاں کھڑا کیا اور بعض لوگوں سے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ واقع میں مہاجر ہیں۔ان کی حالت نہایت خراب تھی لیکن ہماری جماعت کے دوستوں کی یہ حالت نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے کچے مکانات ہیں اور وہ بھی اتنے اچھے نہیں اور انہیں مکانوں میں غریب اور امیر سب رہتے ہیں لیکن پھر بھی یہ مکانات اُن جھونپڑوں کی نسبت بہت اچھے اور صاف ستھرے ہیں۔پس دوسرے لوگوں کی نسبت ہماری حالت بہر حال اچھی ہے۔صرف بات یہ ہے کہ پوری تنظیم کے نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں ہوا اور مرکز کے آباد کرنے میں دیر لگ رہی ہے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر تو پوری ہوگی اور پوری ہو رہی ہے لیکن ضروری ہے کہ انسانی تدبیر کا جو حصہ ہے وہ بھی پورا ہو۔خدا تعالیٰ کی تقدیر نے ہمیں ایک مرکز دے دیا ہے اور دوسری قوموں کی نسبت ہماری حالت بدر جہان بہتر ہے لیکن جماعت تدبیر والے حصہ کو پورا نہیں کر رہی۔خدا تعالیٰ تو نشانات ظاہر کر رہا ہے اور اپنی تقدیر کو بڑھ چڑھ کر پورا کر رہا ہے کوتاہی صرف ہماری طرف سے ہو رہی ہے۔بہر حال یہ حالت جتنی دیر رہے گی ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔جولوگ دور سے آتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا لیکن جو یہاں رہتے ہیں اُن پر خدا تعالیٰ کے نشانات کی عظمت ظاہر ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ تم خود وہ کام نہیں کر سکے جو تمہارے سپر دتھا یعنی انسانی تدبیر کا جہاں تک سوال تھا اُسے پورا نہیں کیا گیا۔اس وقت حالت یہ ہے کہ افراد اپنے مکان نہیں بنا سکتے کیونکہ ان کی جائیدادیں اور اموال مشرقی پنجاب میں لٹ گئے اور اب وہ اس حالت میں نہیں کہ مکان بنا سکیں۔بعض کی زمین کھلی پڑی ہوئی ہے ، بعض کی بنیاد میں گھری پڑی ہیں، بعض نے بنیاد میں کھڑی کر لی ہیں تو ابھی دیوار میں نہیں بنیں اور اگر دیوار میں بنی ہیں تو چھتیں نہیں پڑیں۔پھر ابھی دفاتر بھی تعمیر نہیں ہو سکے ، سکول اور کالج کی عمارتیں بھی نہیں بنیں ، مہمان خانہ نہیں بنا، کارکنوں کے رہائشی کوارٹر تیار نہیں ہوئے۔ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ ہماری مشکلات کو دور فرمائے اور یہ ایک ہی ہتھیار ہے جو ہم ہر جگہ استعمال کر سکتے ہیں۔جو لوگ باہر سے آئے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا کام ابھی تشنہ تکمیل ہے۔ابھی ہمیں