خطبات محمود (جلد 32) — Page 50
$1951 50 خطبات محمود اُن کے لیے اور اُن کے خاندان کے لیے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو جاتا ہے۔پس جو دوست یہاں آئیں وہ اس طرز سے یہاں رہیں کہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اپنے ایمان کی ترقی اور دین کے سیکھنے میں خرچ کریں۔جو لوگ ادھر اُدھر کھڑے ہو کر گئیں ہانکتے ہیں اُن کا نہ آنا یہاں آنے سے بہتر ہے۔اگر ان کے یہاں کچھ رشتہ دار ہیں اور وہ ان مواقع پر یہاں اس لیے آتے ہیں کہ وہ انہیں مل لیں تو وہ کسی اور وقت یہاں آیا کریں تا ہمارے اجتماع جو خالص اسلامی طرز کے ہوتے ہیں میلوں کا رنگ اختیار نہ کر جائیں۔آخر جہاں مرکز ہوتا ہے وہاں جماعت کے دوستوں کے بعض رشتہ دار بھی ہوتے ہیں اور وہ انہیں ملنے کے لیے ضرور آئیں گے میں انہیں ایسا کرنے سے روکتا نہیں۔میری نصیحت کی صرف یہ ہے کہ وہ اس غرض کے لیے اِن دنوں میں یہاں نہ آیا کریں تا ہمارے اجتماع میلوں کا رنگ اختیار نہ کریں۔جیسے عام طور پر لوگ میلوں پر اس لیے چلے جاتے ہیں تا وہ میلہ بھی دیکھ آئیں اور اپنے رشتہ داروں کو بھی مل آئیں۔وہ انہیں ملنے کے لیے دوسرے اوقات میں سے کوئی وقت نکال لیا کریں تا ان کا یہاں آنا ثواب کی بجائے عذاب کا موجب نہ بنے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری موجودہ حالت ایک مہاجر کی سی ہے۔اس زمانہ میں ہجرت ایک خاص رنگ اختیار کر گئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہجرت ہوتی تھی لیکن وہ ہجرت اس قسم کی تھی کہ دو دو تین تین آدمی ہجرت کر کے چلے جاتے تھے اور انصار میں ملتے جاتے تھے۔لیکن یہ ہجرت ایسی ہے کہ سب لوگ اکٹھے ہجرت کر کے آگئے ہیں اور کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں وہ بس سکیں۔ہم پر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور ہمیں ایک مرکز دیا۔لیکن اس مرکز کے بنانے میں بہت دیر لگ گئی ہے۔گو یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ باوجود مصائب کے اور بے بس اور بے کس ہونے کے ہماری جماعت کی حالت ایسی مایوس کن نہیں جیسی دوسری اقوام کی ہے۔میں نے کسی احمدی کو اس حالت میں نہیں دیکھا کہ وہ حیران اور پریشان ہو اور اس کے چہرے پر مایوسی چھائی ہوئی ہو۔مجھے ایک دفعہ ایک ملکی کام کے لیے لاہور سے راولپنڈی جانا پڑا۔ہم موٹر میں جا رہے تھے۔رستہ میں سڑک کے نزدیک میں نے ہزاروں ہزار آدمیوں کو ڈنڈے کھڑے کر کے اور اُن پر چادر میں ڈال کر کھیتوں میں پڑے ہوئے کسمپرسی کی حالت میں دیکھا۔میں نے سمجھا کہ شاید یہ لوگ خانہ بدوش ہیں یا مزدور ہیں جنہوں نے عارضی طور پر یہاں خیمے لگائے ہوئے ہیں۔میرے ساتھ میرا ایک لڑکا بھی تھا۔