خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 52

$1951 52 خطبات محمود بہت سا کام کرنا ہے۔اس لیے آؤ ہم خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں کریں کہ وہ جلد سے جلد ہمارے اس عارضی مرکز کو آباد کرے تا اشاعت کا کام جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے سُرعت کے ساتھ دنیا میں پھیل جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں یہ بھی دعائیں کرنی چاہیں کہ اللہ تعالیٰ اس مرکز کو آئندہ کے لیے آباد رکھنے کی بھی کوئی صورت پیدا کر دے۔ہم جب قادیان چلے جائیں گے ایک بڑی پرابلم (Problem) ہمارے سامنے آ جائے گی کہ یہ عارضی مرکز جو بنایا گیا ہے اسے کس طرح آباد رکھا جائے۔اس کے لیے ہمیں آج سے ہی دعائیں شروع کر دینی چاہیں کہ خدا تعالیٰ اس جگہ کو آبادرکھنے کی بھی کوئی صورت بنا دے۔مکہ اور مدینہ میں کوئی بڑا فاصلہ نہیں تھا لیکن پھر بھی ملکہ کی موجودگی میں مدینہ کی ضرورت باقی تھی۔اس لیے یہ سوال تو پیدا نہیں ہوسکتا کہ قادیان کی موجودگی میں ربوہ کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ سوال یہ ہے کہ جماعت اُس وقت تک اس قدر بڑھ جائے کہ اس کے لیے ایک سے زیادہ مراکز ضروری ہو جائیں۔اگر جماعت بڑھ جائے تو ایک کالج کیا دس ہزار کا لج بھی کی ہمارے لیے تھوڑے ہیں۔ایک اسکول کیا ایک لاکھ اسکول بھی ہماری ضرورت کو پورا نہیں کر سکتے۔پس جماعت بڑھ جائے تو پھر کوئی بات نہیں یہاں بھی ایک مرکز رہے اور قادیان بھی مرکز رہے بلکہ ہمیں مشرقی بنگال میں بھی ایک مرکز بنانے کی ضرورت ہے لیکن موجودہ حالات میں جماعت اتنی تھوڑی ہے کہ اس کے لیے دو مرا کز کو قائم رکھنا مشکل ہے اور بظاہر حالات دو جگہ پر پوری طاقت کے ساتھ بیٹھنا مشکل نظر آتا ہے لیکن خدا تعالیٰ میں یہ طاقت ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کو کھول دے اور جماعت ایک سال میں دس گنا ہو جائے۔پھر دونوں مرکز آبادرہ سکتے ہیں بلکہ پھر یہ سوال بھی آجائے گا کہ ایسٹ پاکستان میں بھی ایک مرکز قائم کیا جائے۔یہ بات یا درکھنی چاہیے کہ جو جماعت بھی فعال ہو گی اُسے دوسروں سے الگ مرکز بنانا پڑے گا۔مثلاً لا ہور یا کسی اور شہر میں ہم رہتے تو ہمیں دوسروں کا حصہ بن کر رہنا پڑتا لیکن کسی جماعت کا مرکز اُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں اُسے کثرت حاصل ہو اور جہاں اُس کا اپنا ماحول ہو۔اس لیے ہمیں بہر حال اپنا مرکز دوسروں سے الگ بنانا پڑے گا تا ہماری وہاں کثرت ہو اور اپنا دینی ماحول ہو۔قادیان کو خدا تعالیٰ نے بطور مرکز اس لیے چنا تھا کہ وہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں ہمارا اپنا ما حول آسانی کے ساتھ بن سکتا تھا۔پس مرکز کے لیے جو جگہ بھی منتخب ہوگی وہ جنگل میں ہی ہوگی لاہور، کراچی، پشاور،