خطبات محمود (جلد 32) — Page 38
$1951 38 خطبات محمود۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے تو مجھے تم سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ ہمیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور تم اقرار کرتی ہو کہ تم نے یہ کام کیا۔جب اسلامی حکم کی تم نے خود خلاف ورزی کی ہے تو اب تمہارے ساتھ میں کس طرح ہمدردی کر سکتا ہوں۔اس پر اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ مجھے پتا ہے کہ اسلام نے بقا کی شادی کو ناجائز قرار دیا ہے لیکن میں تو اس کو جائز سمجھتی ہوں۔یہ بات اس نے ایسی صفائی سے کی کہ یوں معلوم ہوتا تھا وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ سے بھی بڑا سمجھتی ہے کہ ایک تو خدا نے حکم دیا ہے اور ایک میرا حکم ہے۔بیشک اسلام نے اس کو جائز قرار نہیں دیا لیکن میں جو اس کو جائز قرار دیتی ہوں تو پھر اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔میں نے اسے کہا اب میں تجھے اور کیا کہوں جب تم خدا کی بات ماننے کے لیے ہی تیار نہیں تو میں اس معاملہ میں کیا دخل دے سکتا ہوں۔یہ نتیجہ ہے اِس بات کا کہ چھوٹی چھوٹی باتیں لوگوں کو نہیں بتائی جاتیں۔ان کو بتایا نہیں جاتا کہ اسلام کے احکام کی کیا قدرو قیمت ہے اور کیوں ان معاملات میں ہمیں بولنے کا حق حاصل نہیں۔اس عورت نے تو یہ بات ایسے رنگ میں بیان کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا اُس کے نزدیک جس طرح دنیا خدا تعالیٰ کو مانتی ہے اُسی طرح اُس کی بات بھی ماننی چاہیے مگر اتنی بڑی غلطی اسے کیوں لگی؟ اسی لیے لگی کہ چھوٹی چھوٹی باتیں عورتوں ، مردوں اور بچوں کو سکھائی نہیں جاتیں۔خالی وفات مسیح وغیرہ کے مسائل بتا دینے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔جب ایک شخص کا دماغ یہ سوچتا ہو کہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق حاصل ہے وہ اسے بھی حاصل ہے یا خدا نے بیشک ایک چیز کو نا جائز قرار دیا ہے مگر میں تو اُس کو جائز سمجھتا ہوں۔یہ مسائل ہیں جولوگوں کے ذہن نشین کرانے چاہیں اور اُن کو بار بار بتانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا ادب کرنا چاہیے، دین کا ادب کرنا چاہیے، رسول کا ادب کرنا چاہیے اور اس کے احکام کو سن کر فوراً اپنا سر جھکا دینا چاہیے۔یہ مسئلے عوام الناس کے لیے زیادہ ضروری ہوتے ہیں۔اور در حقیقت ان کو سیکھنے کے بعد ہی کوئی شخص دین کے لیے مفید وجود بن سکتا ہے ورنہ ایک شخص اگر وفات مسیح پر دھواں دھار تقریر کرے اور بعد میں کسی بات پر آ کر کہہ دے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیشک ایسا کہا ہو گا مگر میرا نظریہ یہ ہے تو سب لوگ ہنس پڑیں گے کہ اس کی مولویت تو معلوم ہو گئی۔