خطبات محمود (جلد 32) — Page 37
خطبات محمود 37 $1951 دوسری نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ علاقہ ابھی جنگل کی طرح ہے اور ایسی طرز پر آباد نہیں ہوا کہ ہرقسم کی تعلیموں سے یہاں کے رہنے والے فائدہ اُٹھا سکیں۔ایسے حالات میں لوگ بعض دفعہ اہم مسائل جو تعلیم و تربیت سے تعلق رکھتے ہیں اُن کو بھول جاتے ہیں۔پس یہاں جو واعظ اور خطیب ہیں اُن کا بھی اور پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ بار بار دین کے موٹے موٹے مسائل لوگوں کے ذہن نشین کراتے رہا کریں۔جب ہم مکان بناتے ہیں تو سب سے پہلے ہم چھت کی اینٹ نہیں رکھتے بلکہ بنیادی اینٹ رکھتے ہیں۔اسی طرح دین کی تکمیل کے لیے بڑے بڑے مسائل بعد میں آتے ہیں پہلے چھوٹے چھوٹے مسئلے لوگوں کو آنے چاہیں۔اگر چھوٹے چھوٹے مسائل ہی لوگوں کو نہ آتے ہوں تو بڑے بڑے مسائل ان کے سامنے بیان کرنا چنداں مفید نہیں ہوتا۔میں دیکھتا ہوں کہ یہاں عورتوں میں دین سے اتنی ناواقفیت پائی جاتی ہے کہ وہ جہالت جو کسی زمانہ کی عورتوں میں ہم سنا کرتے تھے وہ اس جگہ کی بعض عورتوں میں نظر آتی ہے اور حیرت ہوتی ہے ہے کہ ان کی ناواقفیت کس حد تک پہنچی ہوئی ہے۔ایک عورت جو پنجابی ہے مگر ایک عرصہ سے یہاں رہائش رکھتی ہے اس کی زبان سے میں نے ایسا فقرہ سنا ہے کہ کم از کم پنجاب میں میں نے ایسا فقرہ کسی عورت کے منہ سے آج تک نہیں سنا تھا۔وہ میرے سامنے اپنی ایک شکایت لائی اور اس نے کہا کہ میری لڑکی کی شادی ایک ایسی جگہ ہوئی تھی جہاں دوسرے فریق نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے دیں گے مگر اب وہ میری لڑکی کو تو آباد کرنا چاہتے ہیں لیکن میرے لڑکے کولڑ کی دینے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے اب میں اپنی لڑکی کا نکاح فسخ کرنا چاہتی ہوں۔میں نے اسے بہتر سمجھایا کہ تم رشتہ دے چکی ہو اب تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم رشتہ واپس لو۔میں مانتا ہوں کہ انہوں نے شادی کے وقت یہ وعدہ کیا ہو گا کہ تمہارے لڑکے کو اپنی لڑکی دے دیں گے ، دنیا میں عام طور پر لوگ ایسی دھوکا بازیاں کر دیتے ہیں لیکن نکاح کے لحاظ سے اس وعدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔اخلاقیات کے لحاظ بیشک ہم کہہ دیں گے کہ وہ بہت بُرے تھے، بڑے دھو کا باز تھے، پہلے ایک وعدہ کیا اور پھر انکار کر دیا مگر جہاں تک تمہاری لڑکی کے رشتہ کا سوال ہے وہ ہو چکا ہے اور اب وہ تو ڑا نہیں جاسکتا۔پھر میں نے اسے کہا اگر تم پہلے ہی خدا اور اُس کے رسول کی بات سن لیتیں تو یہ مصیبت تم پر کیوں آتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اور واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ بقا کی شادی نہ کر و 1 اور جب