خطبات محمود (جلد 32) — Page 39
خطبات محمود 39 $1951 پس لوگوں کو دین کے موٹے موٹے مسائل سے واقف کرو۔مثلاً نہانے دھونے کے مسائل ہیں یا نماز کے مسائل ہیں کہ اس طرح کھڑا ہونا چاہیے، اس طرح رکوع کرنا چاہیے، اس طرح سجدہ کرنا تھی چاہیے،صفوں کو سیدھا رکھنا چاہیے، جلدی جلدی نماز نہیں پڑھنی چاہیے، نماز کے لیے دوڑ کر نہیں آنا چاہیے۔نماز باجماعت پڑھنی چاہیے۔اسی طرح شادی بیاہ کے مسائل ہیں، عورتوں کے حقوق کے مسائل ہیں یہ چیزیں ہیں جو لوگوں کے سامنے متواتر آنی چاہیں اور اُن کو بتانا چاہیے کہ اسلام نے ان پر کیا ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔اسی طرح ایک اور شکایت ہے جو یہاں آنے پر اکثر سننے میں آتی ہے اور وہ یہ کہ ایک میاں ہے جو اپنی بیوی کو خرچ نہیں دیتا اور اسے مارتا رہتا ہے۔ابھی میں خطبہ کے لیے آ رہا تھا کہ مجھے پیغام ملا کہ فلاں لڑکی کہتی ہے آپ میرے خاوند کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں وہ ہمیشہ مجھے تنگ کرتا رہتا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر وہ شخص کس شریعت پر عمل کرتا ہے۔ڈنڈا لے کر اپنی بیوی کو مارنے لگ جانا، اُس کو گھر سے نکال دینا اور خرچ تک نہ دینا یہ کس قانون کے ماتحت جائز ہے اور کونسی شریعت اُسے اس بات کا حق دیتی ہے۔وہ کہتی ہے میں خاوند کے پاس بھی رہوں تو وہ مجھے اخراجات کے لیے کچھ نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ گزارہ چلاؤ۔اب سوال یہ ہے کہ وہ گزارہ کس طرح چلائے ؟ یا تو اُسے کوئی پیشہ سکھانا چاہیے مثلاً درزی کی دکان اُسے کھول دی جائے اور کہا جائے کہ اس دکان میں سے گزارہ چلاؤ یا کوئی اور صورت پیدا کی جائے لیکن اِدھر اُس کو گھر میں بٹھا رکھنا اور اُدھر یہ کہنا کہ وہ اس کے مطالبات پورے کرے یہ دونوں باتیں کسی طرح اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔بہت سی خرابیاں دنیا میں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ اپنی بیویوں کو خرچ نہیں دیتے اور اپنے مطالبات جاری رکھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ناجائز ذرائع سے روپیہ کمانے کی کوشش شروع کر دیتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ وہ اپنی بیوی سے لڑا اور اُس نے کہا کہ میں اس کی ناک کاٹ ڈالوں گا۔یہ میرے مطالبات کو پورا نہیں کرتی۔شور سن کر لوگ جمع ہو گئے تو اُس کی بیوی نے کہا کہ اس سے پوچھو کہ یہ ہر روز یہ فرمائشیں کرتا ہے کہ آج یہ پکا، آج وہ پکا۔کبھی اس نے مجھے پیسے بھی دیئے ہیں؟ یہ کتنے بڑے ظلم کی بات ہے کہ اتنی موٹی باتیں بھی ہماری جماعت کے لوگوں کو معلوم نہیں اور وہ بیویوں کو مارنا اور اُن کو خرچ نہ دینا جائز سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت نے ان کو اس قسم کا کوئی حق نہیں دیا۔یہ مسائل جو لوگوں پر واضح