خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 232

$1951 232 خطبات محمود تمہاری قربانی کی ضرورت نہیں تو تم رونے لگ جاؤ اور کہو کہ کیا ہم بے ایمان ہو گئے ہیں یا ہم دین سے مرتد ہو گئے ہیں کہ ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ اب تم سے دین کی خدمت کا کام نہیں لیا جائے گا۔پس آج میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اٹھارہ یا انیس سال کا کوئی سوال نہیں۔ہم نے تمام دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے اور یہ کام ہم سے ہماری دائمی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔اس وقت مغرب میں بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور مشرق میں بھی ، شمال میں بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور جنوب میں بھی۔آج ہر ملک اور ہر قوم میں اسلام اور احمدیت کا جھنڈا گاڑا جارہا ہے۔ابھی ہمارے مبلغ تھوڑے ہیں اور ہمیں بار بار اُن کو مد بھجوانی پڑے گی۔اُس طرح جس طرح شام اور ایران کے اسلامی لشکروں کو کمک کی ضرورت پڑتی تھی۔ایران میں جب مسلمانوں کو ایک جنگ میں شکست ہوئی تو اُس وقت مدینہ میں مزید فوج بھجوانے کے لیے اعلان کیا گیا مگر مدینہ اور اُس کے نواحی میں کوئی فوج نہیں تھی جو مسلمانوں کی مدد کے لیے بھجوائی جاتی۔یہی کیفیت اس وقت ہماری ہو گی۔ہمیں بھی اُسی طرح جس طرح ایک بھٹیارہ پتے اور سوکھی شاخیں اپنی بھٹی میں جھونکتا چلا جاتا ہے اسلام کی اشاعت کے لیے متواتر اور مسلسل اپنا روپیہ بھی جھونکنا پڑے گا، اپنے آدمی بھی جھونکنے پڑیں گے، اپنی کتا بیں بھی جھونکنی پڑیں گی ، اپنا لٹریچر بھی جھونکنا پڑے گا اور اس راستہ میں ہمیں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا پڑے گا۔شیطان اپنی کرسی کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا۔اس وقت خدا کے تخت پر شیطان متمکن ہے، اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت پر شیطان کے ساتھیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے۔وہ لڑیں گے اور پورے زور کے ساتھ ہمارا مقابلہ کریں گے اور ہم کو بھی اپنا سب کچھ اِس راہ میں قربان کر دینا پڑے گا۔بہر حال جب یہ چیز واضح ہو جائے اور اس لڑائی کی اہمیت کو انسان سمجھ لے تو اس کے بعد تین یا دس یا انیس کا سوال کوئی احمق ہی کر سکتا ہے۔جب ہم نے یہ تحریک شروع کی تھی اُس وقت ہم کو اس کے نتائج سے ایسے ہی نا واقف تھے جیسے مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرنے والے انصار اپنے معاہدہ کی حقیقت سے ناواقف تھے ، جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسلام کا شاندار مستقبل پورے طور پر روشن نہیں ہوا تھا اُسی طرح ہم پر بھی اس تحریک کا مستقبل اس وقت روشن نہیں ہوا۔پس میں نے تم سے اسی طرح وعدہ لیا جس طرح انصار سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی