خطبات محمود (جلد 32) — Page 233
$1951 233 خطبات محمود وعدہ لیا تھا۔اور تم نے اُسی طرح اقرار کیا جس طرح انصار نے معاہدہ کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا۔لیکن جب زمانہ نے پردے اُٹھا دیئے، قدرت نے انکشاف کر دیا تو نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ وعدہ رہا اور نہ انصار کا معاہدہ معاہدہ رہا۔اب دنیا ہی بدل چکی تھی ، آب ساری دنیا کو فتح کرنے کا سوال تھا، آب ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے کا سوال تھا۔اب مدینہ کے اندر یا مدینہ کے باہر کا کوئی سوال نہ تھا، اب ہر جگہ یہ لڑائی لڑی جانے والی تھی۔اسی طرح آب ہمارے لیے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے لیے وہ دن قریب سے قریب تر لانا چاہتا ہے جب ہم نے اسلام کی لڑائی کو اُس کے اختتام اور کامیاب اختتام تک پہنچانا ہے، آب کسی ایک ملک یا دو ملکوں کا سوال نہیں، اب کسی ایک مبلغ یاد و مبلغوں کا سوال نہیں ، آب سر دھڑ کی بازی لگانے کا سوال ہے۔یا کفر جیتے گا اور ہم مریں گے یا کفر مرے گا اور ہم جیتیں گے۔درمیان میں اب بات رہ نہیں ہے سکتی۔ایک ادنیٰ سے ادنی سپاہی دس پندرہ روپے لے کر میدانِ جنگ میں جاتا اور اپنے سینہ کو گولی کے لیے پیش کر دیتا ہے۔ہمارے لیے تو پندرہ کا سوال نہیں۔قرآن کہتا ہے کہ ہم نے مومنوں سے سودا کر لیا ہے۔ہم نے ان سے ان کی جانیں اور مال لے لیے ہیں اور انہیں اپنی جنت دے دی ہے۔9 اگر پندرہ روپوں کے لیے ایک سپاہی اپنی جان دے سکتا ہے تو جنت کے لیے ایک مومن کو کتنی خوشی اور کتنی بشاشت سے قربانی پیش کرنی چاہیے۔پس اپنے دلوں سے دس یا نہیں کا سوال اُٹھا دو۔یہ قربانی تمہیں مرتے دم تک کرنی پڑے گی۔جو کچھ ہوسکتا ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ بعض نے اس تحریک کو صرف انیس سالہ تحریک سمجھ کر اتنا بوجھ اپنے اوپر برداشت کر لیا تھا جو اُن کی طاقت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھا اس لیے دفتر سے بات کر کے ان کو اتنی کمی کرنے کی اجازت دے دی جائے گی کہ وہ مستقل طور پر آسانی کے ساتھ اس بوجھ کو اٹھاتے چلے جائیں۔ان کے علاوہ باقی تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق تحریک جدید میں حصہ لیں۔اسی حکمت کے ماتحت دفتر دوم قائم کیا گیا ہے جس میں ہر وقت انسان شامل ہو سکتا ہے لیکن اس ارادہ کے ساتھ کہ وہ اپنا قدم اب پیچھے نہیں ہٹائے گا۔گویا یہ بھی ایک قسم کا وقف ہے جس میں ہر شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میری جان اور میرا مال اسلام کے لیے حاضر ہے۔پس اپنی توفیق کے مطابق ہر شخص کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔مرد بھی اور عورتیں بھی، بچے بھی اور بوڑھے بھی ، امیر بھی