خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 231

$1951 231 خطبات محمود پورے طور پر نہیں سمجھے۔تم مجھے کہہ سکتے ہو کہ اُس وقت تم نے حقیقت کو پورے طور پر کیوں نہیں سمجھا ؟ میرا جواب یہ ہے کہ کیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑا ہوں؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُس وقت یہی سمجھا تھا کہ مکہ کے لوگ مدینہ پر حملہ کر کے آئیں گے اُن کے دفاع کے لیے مدینہ والوں کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جانا چاہیے۔لیکن خدا تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ آپ کو ساری دنیا پر غالب کرے۔خدا تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ آپ باہر نکل کر کفار کا مقابلہ کریں۔اگر اُس وقت یہ بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوتی تو جب مدینہ والوں نے یہ کہا تھا کہ اگر کسی قوم نے مدینہ پر حملہ کیا تو ہم اُس کا مقابلہ کریں گے تو آپ فرماتے تم یہ کیا کہہ رہے ہو۔ہمیں تو باہر بھی دشمن کا مقابلہ کرنا پڑے گا مگر آپ نے یہ نہیں کہا کیونکہ اس وقت اصل حقیقت آپ پر روشن نہیں ہوئی تھی۔پھر تم نے بھی میری بات کو اُسی طرح نہیں سمجھا جس طرح صحابہ نے نہیں سمجھا۔انصار نے یہی سمجھا تھا کہ یہ لڑائی اگر ہوئی بھی تو صرف مدینہ میں ہوگی۔انہیں کب معلوم تھا کہ مدینہ کا سوال نہیں ی لڑائی ساری دنیا میں لڑی جانے والی ہے۔کیا کسی انصاری کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آ سکتی تھی کہ پنجاب اور ہندوستان میں بیٹھ کر بھی ایک مسلمان کولڑنا پڑے گا ؟ اسی طرح چین اور جاپان اور سماٹرا اور جاوا اور وہ دوسرے ملک جن کے نام بھی وہ نہیں جانتے تھے اُن میں مسلمانوں کو لڑنا پڑے گا۔لیکن خدا اس بات کو جانتا تھا۔چنانچہ جب اس کی حکمت واضح ہوئی تو معاہدات ختم ہو گئے۔اسی طرح جب میں نے تم سے تین سال کے لیے قربانی کرنے کو کہا تو میں نے اس قربانی کو ایک وقتی چیز سمجھ کر یہ اعلان کیا اور خدا نے ہمیں اُس وقت فتح بھی دے دی۔چنانچہ احرار کو ہمارے مقابلہ میں خطر ناک شکر ہوئی۔اس کے بعد جب میں نے اس تحریک کو دس سال تک بڑھایا تو اُس وقت مجھے کچھ کچھ روشنی نظر آنے لگ گئی تھی اور تبلیغ کا ایک رستہ کھل گیا تھا۔پھر جب میں نے انیس سال کہا تو اُس وقت تک اور کی زیادہ روشنی نمودار ہو چکی تھی۔مگر اب سترھویں سال میں آ کر پتا لگا کہ خدا تعالیٰ کی سکیم بڑی بھاری ہے اور وہ قیامت تک کے لیے ہے۔اور جب یہ بات کھل گئی تو اب میں بھی تم سے اٹھارہ یا انیس سال کے لیے قربانی کرنے کے لیے نہیں کہتا۔جب تک تمہارے جسموں میں خون چلتا ہے اگر تم میں ایمان کا ایک ذرہ بھی موجود ہے تو تمہیں دین کی خدمت کرنی ہوگی۔بلکہ اگر تمہارے دلوں میں ایمان موجود ہے تو تمہاری تو یہ کیفیت ہونی چاہیے اگر انیس سال کے بعد تم سے یہ کہا بھی جائے کہ اب