خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 108

$1951 108 خطبات محمود ہوتا ہے، خدا ہی اس کی ماں ہوتی ہے، خدا ہی اس کا بھائی ہوتا ہے اور خدا ہی اس کی بہن ہوتی ہے )۔پس جب کوئی مصیبت اس پر یا اس کی قوم پر آتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے۔دنیا میں دو قسم کے علاج ہوتے ہیں۔ایک علاج ازالہ اور دوسرا علاج احتیاطی - علاج ازالہ تو یہ ہے کہ جب بیماری آتی ہے تو انسان اُس کے ازالہ کی کوشش کرتا ہے۔مثلاً بخار ہو جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی دوا کھاؤں جس سے بخار دور ہو جائے۔کھانسی ہوتی ہے تو وہ چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی دوا کھاؤں جس سے کھانسی دور ہو جائے۔پھوڑے پھنیساں ہوتی ہیں تو وہ چاہتا ہے کہ میں ایسی دوا کھاؤں جس سے پھوڑے پھنسیاں دور ہو جائیں۔لیکن ایک علاج دفاعی ہوتا ہے یعنی بیماری تو نہیں آتی مگر علاج کیا جاتا ہے تا کہ بیماری آنے ہی نہ پائے۔اور ڈاکٹروں اور تمام ماہرینِ فن کی رائے یہ ہے کہ علاج ازالہ کی نسبت احتیاطی علاج زیادہ اچھا ہوتا ہے کیونکہ علاج ازالہ میں بیماری حملہ کرتی ہے اور کچھ نہ کچھ جسم کو نقصان پہنچا دیتی ہے لیکن جو پہلے سے دفاع کر لیتا ہے اور اپنی حفاظت کے لیے مضبوط قلعہ بنالیتا ہے اُس پر بیماری حملہ ہی نہیں کرتی اور وہ تندرست رہتا ہے۔اسی طرح ایک دعائے ازالہ ہوتی ہے اور ایک دعائے احتیاطی ہوتی ہے۔دعائے ازالہ تو یہ ہے کہ مصیبت آئی اور تم اللہ میاں کے پاس چلے گئے کہ خدایا! ہم پر یہ مصیبت آئی ہے تو اپنے فضل سے اس کو دور کر دے۔اور دعائے احتیاطی یہ ہے کہ خدایا! کوئی مصیبت آئے ہی نہ۔رمضان کی دعائیں احتیاطی دعائیں ہوتی ہیں کیونکہ رمضان میں کوئی خاص شتر انسان کو نہیں پہنچتا جس کے لیے دعاؤں پر زور دینا ضروری ہو۔رمضان میں اگر دعائیں کی جاتی ہیں تو احتیاطی طور پر۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے آخر میں ایک عشرہ مقرر کر دیا ہے جس میں دعاؤں کی قبولیت کا اس نے خاص طور پر وعدہ فرمایا ہے۔وہ اپنے بندوں سے کہتا ہے کہ تم پر کوئی بلا ہو یا نہ ہو تم ہمارے پاس آجایا کرو تا کہ آئندہ تم پر کوئی بلا نہ آئے۔پس رمضان کی دعائیں، دعائے احتیاطی ہیں جو کسی مصیبت کو دور کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ ان دعاؤں میں بندہ یہ عرض کرتا ہے کہ خدایا! مجھ پر کوئی مصیبت آئے ہی نہ۔پس یہ علاج اُس علاج سے اچھا ہے جو مصیبت کے آنے پر کیا جاتا ہے۔ان دنوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے خود دس دن مقرر کر دیئے ہیں اور کہا ہے کہ اپنی ساری ضرورتیں اور حاجات ہم سے مانگ لو تا کہ اگلے سال جو مصیبتیں تم پر آسکتی ہیں وہ نہ آئیں۔اور اگر کسی پر آجائیں تو پھر اس کے لیے بھی