خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 109

$1951 109 خطبات محمود دعاؤں کا دروازہ کھلا ہے مگر بہر حال وہ دعائے ازالہ ہوگی۔اور یہ یقینی بات ہے کہ دعائے ازالہ اتنی اعلیٰ نہیں ہوتی جتنی دعائے احتیاطی۔جیسے جسمانی بیماریوں سے احتیاط کرنے والے کی صحت زیادہ اعلیٰ ہوتی ہے اور وہ شخص جس پر بیماری آ جائے اُس کی صحت ایسی اعلی نہیں ہوتی کیونکہ بیماری اسے کچھ نہ کچھ ضرور جھنجوڑ دیتی ہے۔پس یہ دعاؤں کے دن ہیں تمہیں چاہیے کہ ان ایام میں خاص طور پر دعائیں کرو۔اپنے لیے ، سلسلہ کے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے۔یہ دن معمولی نہیں ہیں۔ان میں وہ سب سے بڑا فتنہ پیدا کیا گیا ہے جس کا نام فتنہ دجال اور فتنہ یاجوج ماجوج رکھا گیا ہے۔یعنی ایک طرف کمیونزم کا فتنہ ہے اور دوسری طرف عیسائیت کا فتنہ ہے۔یہ دو بلائیں ہیں جو منہ کھولے آ رہی ہیں۔اور یہی وہ دو بلائیں ہیں جن کی طرف سورہ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ 2 کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک نی غضب الہی کے نیچے آئی ہوئی قوم اسلام پر حملہ آور ہوگی اور ایک گمراہی اور صداقت سے دوری میں مبتلا مذہب اسلام پر حملہ آور ہو گا۔گویا ایک طرف عیسائیت ہوگی اور دوسری طرف کمیونزم ہوگا۔ایک طرف مذہب ہو گا مگر گمراہی کا اور دوسری طرف ایک طریق ہو گا جو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والا اور اُس کی ناراضگی اور غضب کا انسان کو مورد بنانے والا ہوگا۔ان دو سانڈوں کے درمیان اسلام کا چھوٹا سا یتیم بچہ ہو گا اور ہر سانڈ کی ادنیٰ سے ادنی ٹھو کر بھی اُس کو کچل دینے کے لیے کافی ہو گی۔اسی لیے سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ سکھایا کہ تم ہمیشہ یہ دعا کرتے رہو کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وَلَا الضَّالِّينَ۔خدایا! تو ہمیں کمیونزم کے فتنہ سے بھی بچا اور عیسائیت کے فتنہ سے بھی محفوظ رکھ۔کمیونزم کی پیرو وہی مغضوب قوم ہے جس کا بائیبل میں بھی اِن الفاظ میں ذکر آتا ہے کہ دیکھ اے جوج روش اور مسک اور توبل کے فرمانروا میں تیرا مخالف ہوں۔3 اور یہ کہ اُن ایام میں جب جور اسرائیل کی مملکت پر چڑھائی کرے گا تو میرا قہر میرے چہرہ سے نمایاں ہوگا“۔4 غرض ایک قوم تو وہ ہے جو مذہب سے بیزار اور خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کی مورد۔اور ایک قوم خدا خدا تو کر رہی ہے مگر عقائد کے لحاظ سے وہ خطرناک گمراہی میں مبتلا ہے اور لوگوں کو ایک غلط مذہب کی طرف کھینچ رہی ہے۔ایسے زمانہ میں پیدا ہونے والی قوم جس کے پاس کوئی طاقت اور قوت کی بھی نہ ہو اُس کے لیے سوائے دعا کے کامیابی کا اور کیا ذریعہ ہو سکتا ہے۔تمہاری حالت تو یہ ہے کہ