خطبات محمود (جلد 32) — Page 107
$1951 107 خطبات محمود اور وہ ان دنوں کو غفلت میں ضائع کر دے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اب قیامت تک اُسے کوئی دوسرا موقع اس قسم کے روزوں کا مل ہی نہیں سکتا۔کیونکہ جب دوسرا موقع آئے گا اُس وقت وہ ستر ، بہتر سال کا ہو چکا ہو گا اور اُس وقت شریعت بھی یہی کہے گی کہ اب تمہارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم روزہ چھوڑ دو۔یہ کتنی سوچنے والی بات ہے اور کتنے غور اور فکر کرنے والی بات ہے۔میں ہمیشہ افسوس کیا کرتا ہوں کہ ہماری جماعت اپنے کاموں پر غور کرتے ہوئے حساب نہیں لگاتی حالانکہ اگر میری بات حساب لگا کر دیکھی جائے تو اس کے کئی مخفی پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔یہی بات دیکھ لو کہ روزوں کا ایک چکر چھتیس سال میں پورا ہوتا ہے اور دوسرے روزے وہی شخص رکھ سکتا ہے جو بہتر سال تک پہنچ جائے یا ساٹھ سال سے اوپر اُس کی عمر ہو جائے ورنہ دوسرے روزے اُس کی زندگی میں آہی نہیں سکتے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس شخص کی اپریل یا مئی میں پیدائش ہو اس کے لیے نی ناممکن ہے کہ وہ دوسرے روزے رکھ سکے۔صرف دسمبر اور جنوری کی پیدائش والوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اُس وقت تک ساٹھ باسٹھ سال کے ہو جائیں اور روزے رکھ لیں۔اپریل مئی میں پیدا ہونے والا اُس وقت تک ستر سال تک جا پہنچے گا۔اور پھر سو میں سے دس پندرہ ہی ایسے رہ جائیں گے جو مضبوط قوی والے ہوں اور اُن کی صحتیں ایسی اچھی ہوں کہ وہ رمضان کے روزے رکھ سکیں۔پس ساری عمر میں صرف ایک دفعہ جو دن آتے ہیں اُن کو بہانوں سے گزار دینا نہایت افسوسناک بات ہے۔اگر انسان ان دنوں میں تکلیف برداشت کر کے بھی روزے رکھ لے تو وہ بڑی عمر میں جا کر فخر کر سکتا ہے اور لوگوں سے کہ سکتا ہے ایسی گرمی میں ہم بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور ہم خوشی خوشی اس تکلیف کو برداشت کیا کرتے تھے۔پھر یہ دعاؤں کے دن ہیں جن سے ہماری جماعت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔در حقیقت اگر ہم غور سے کام لیں تو ہماری جماعت کے پاس سوائے دعا کے اور ہے ہی کیا ؟ جب کوئی مشکل پیش آتی ہے ہمارے لیے سوائے اس کے اور کوئی دروازہ نہیں ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور اُس سے اپنے کاموں کے لیے مدد مانگیں۔جس طرح لوگ کہتے ہیں ملاں کی دوڑ مسیت تک۔اسی طرح مومن کی دوڑ خدا تک ہوتی ہے۔اس کو جب بھی کوئی دکھ پہنچتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے کیونکہ سوائے خدا کے اس کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا(خدا ہی اس کا باب