خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 45

$1950 45 خطبات محمود کئے۔پس یہ کام مشکل تو ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔اور جب ناممکن نہیں اور ہم سے پہلے کئی لوگ یہ کام کر چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسی رستہ پر چلیں اور کامیابی نہ دیکھیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہمیں اس بات کی مشق کرنی چاہیے کہ ہم نفس کے دھوکا کو سمجھنے کی کوشش کریں۔بے شک دشمن کے دھوکا کو سمجھنے کے لئے بھی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔مگر انسان اس کے لئے پہلے سے تیار ہوتا ہے۔نفس کے دھوکا کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔پس ہمیں چاہیے کہ ہم اس بات کا عزم کر لیں کہ نفس کے دھوکا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہیں گے اور اپنے آپ کو صحیح راستہ پر چلنے کی عادت ڈالیں گے۔بعض احادیث میں آتا ہے حَاسِبُوا قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا 2 تم اپنے نفس کا محاسبہ کرو پیشتر اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔بعض کے نزدیک یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قول نہیں بلکہ کمزور روایت کا فقرہ ہے۔ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ہمارے نزدیک اس میں ایک نہایت ہی لطیف بات بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ تم اپنے نفس کا محاسبہ کرو پیشتر اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔جو شخص اپنے نفس کا پہلے محاسبہ کر لے گاوہ عین وقت پر شرمندہ نہیں ہوگا۔ایک شخص جب گھر سے سفر کے لئے نکلتا ہے اور چلنے سے پیشتر وہ اپنے سامان کو دیکھ لیتا ہے وہ منزل مقصود پر پہنچ کر پریشان نہیں ہوتا۔لیکن جو شخص گھر سے نکل پڑتا ہے اور سب سامان کا جائزہ نہیں لیتا وہ منزل مقصود پر پہنچ کر شرمندہ اور ذلیل ہوتا ہے۔اسی طرح اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ مرنے کے بعد اُسے کس کس چیز کی ضرورت ہے اور وہ مرنے سے قبل اُن سب چیزوں کو مہیا کر لے تو وہ مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ اور ذلیل نہیں ہوگا۔لیکن اگر کوئی شخص محاسبہ نہ کرے اور اُس کا کوئی خانہ خالی ہو تو وہ اُسے پُر کرنے کے لئے دنیا میں واپس نہیں آسکے گا۔جب ایک دفعہ کشتی چلی گئی تو وہ کشتی اس دنیا میں واپس نہیں آسکتی کیونکہ اُس کا کنارا اگلا جہان ہے جہاں سے مرنے کے بعد کوئی شخص واپس نہیں آیا کرتا۔پس اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بہت بڑی جد و جہد کی ضرورت ہے۔اور اس کے ساتھ نفس کی صفائی کی بھی ضرورت ہے۔تو کل کی بھی ضرورت ہے۔طہارت کی بھی ضرورت ہے۔تقویٰ و پرہیز گاری کی بھی ضرورت ہے۔دن پر دن گزرتے جاتے ہیں ، سال پر سال گزر رہے ہیں یہاں تک کہ ایک وقت لوگ کہیں گے کہ 100 سال ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے تھے لیکن ہمارا کام ابھی بالکل ابتدائی حالت میں ہے۔ہماری منزل کا ابھی کوئی نشان بھی