خطبات محمود (جلد 31) — Page 44
$1950 44 خطبات محمود ناکام بنادیتا ہے۔لیکن جب اُس کا اپنا نفس ہی اُس سے دھو کا کرنے لگ جاتا ہے تو اُس پر جرح اور تنقید کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ انسانی نفس ہر بات خیر خواہ بن کر کہتا ہے۔دنیا میں جتنی ٹھوکریں بیویوں کو خاوندوں سے، خاوندوں کو بیویوں سے، اولادکو ماں باپ سے اور ماں باپ کو اولاد سے اور بہن بھائیوں کو ایک دوسرے سے لگتی ہیں وہ صرف نفسانی دھوکا کی وجہ سے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ بیویاں اور اولا د انسان کے لئے فتنہ ہیں 1 اور شیطان نے بھی حضرت آدم علیہ السلام کو خراب کرنا چاہا تو اُس نے یہی طریق اختیار کیا اور اُن سے کہا میں تمہارا ناصح اور خیر خواہ ہوں۔اگر شیطان حضرت آدم علیہ السلام کے پاس دشمن بن کر آتا تو وہ کبھی فریب میں نہ آتے۔لیکن وہ دوست بن کر آیا اور دوست بن کر اُس نے آپ کو فریب دیا۔غرض دوست بن کر بہت سے فریب دیئے جاتے ہیں۔اور نفس سے زیادہ اور دوست کون ہوگا۔اور اگر نفس ہی دشمنی کرنے لگ جائے تو انسان اس پر جرح کرنے کے قابل نہیں رہتا۔یہی وجہ ہے کہ صلحاء اور صوفیاء نے کہا ہے کہ سب سے بڑا دشمن تیرا اپنا نفس ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ کسی کا نفس دیدہ و دانستہ اُسے تباہی کے گڑھے میں لے جانا چاہتا ہے۔کسی ذلیل سے ذلیل شخص کا نفس بھی دیدہ و دانستہ اُسے تباہی کے گڑھے میں نہیں گرانا چاہتا۔نفس کی سب سے بڑی دشمنی یہ ہے کہ وہ انسان کے ظاہری فائدہ کے لئے ایسی دلیلیں دیتا ہے کہ وہ اگر دشمن کے منہ سے سنی جائیں تو انسان اُنہیں فورا رڈ کر دے۔لیکن نفس کی پیش کی ہوئی دلیلوں کو انسان رڈ نہیں کر سکتا۔پس اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ کسی کا نفس یہ چاہتا ہے کہ وہ دوزخ میں جا پڑے اور وہ ذلیل ہو جائے۔نفس کی سب سے بڑی دشمنی کے یہ معنی ہیں کہ وہ انسان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانا نہیں چاہتا لیکن وہ نقصان پہنچا دیتا ہے۔اور اس میں اور دوسری قسم کی دشمنی میں فرق ہے۔دشمن نقصان پہنچانا چاہتا ہے لیکن پہنچا نہیں سکتا۔اور نفس نقصان نہیں پہنچانا چاہتا لیکن وہ نقصان پہنچادیتا ہے۔پس ان حالات میں ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم قدم بقدم سوچ کر چلیں اور اپنے دماغ کو اس بات کا عادی بنالیں کہ وہ سچ کو دیکھے اور اسے پر کھنے کی قابلیت پیدا کر سکے۔آخر یہ کام پہلوں نے کئے ہیں پھر ہم کیوں نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ مشکل ضرور ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت صحابہ نے یہ کام کئے تھے اور ان کے بعد آنے والے صلحاء نے بھی یہ کام