خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 147

$1950 147 خطبات محمود اسلامی لشکر اُن معلومات سے محروم ہو جائے گا جن کے مہیا کرنے کے لئے اُسے بھجوایا گیا تھا۔پس چونکہ اس کا اپنی جان بچا کر اسلامی لشکر میں پہنچنا ضروری ہے اس لئے اسے اجازت ہوگی کہ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے نماز پڑھتا چلا جائے۔جس طرح بیمار آدمی لیٹے لیٹے نماز پڑھ لیتا ہے یا بعض دفعہ اشاروں میں ہی نماز پڑھ لیتا ہے اس طرح اسے بھی اجازت ہوگی کہ جس طرح چاہے نماز پڑھ لے۔مثلاً گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے نماز کے کلمات دہراتا جائے ، رکوع کا وقت آئے تو ذرا سا سر جھکائے اور ایک دو دفعہ جلدی جلدی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ کہہ دے اور ذرا اور سر جھکا دے تو اسے سجدہ سمجھ لے۔اس طرح جلدی جلدی نماز پڑھ کر فارغ ہو جائے۔یہ بھی قصر ہے جس کو ہماری شریعت نے خوف کی حالت میں جائز قرار دیا ہے۔لیکن اگر وہ گھر میں اس طرح نماز پڑھے گا تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔وہاں تو ذرا م سا بھی سر جھکا لے تو رکوع ہو جائے گا ذرا اور سر جھکا لے تو سجدہ ہو جائے گا۔لیکن مسجد میں آ کر اگر کوئی شخص اس طرح نماز پڑھے گا تو ہم اسے کہیں گے کہ تیری نماز نہیں ہوئی۔پس جس قصر کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے اُس کا تعلق صرف ان نمازوں کے ساتھ ہے جو خوف کی حالتوں میں ادا کی جاتی ہیں۔مثلاً لڑائی ہو رہی ہے کفار تعاقب میں ہیں اور نماز کا وقت آگیا ہے تو اُس وقت نماز کو چھوٹے سے چھوٹا کرنا جائز ہوگا۔اور پھر یہ بھی جائز ہوگا کہ جس حالت میں انسان ہو اُسی حالت میں نماز پڑھ لے۔مثلاً اگر ایک شخص گھوڑے پر سوار ہے تو باوجود اس کے کہ اُس کی ایک نا انگ ایک طرف ہوگی اور دوسری ٹانگ دوسری طرف پھر بھی اُس کی نماز ہو جائے گی اور اُس کا منہ قبلہ کی طرف نہیں ہوگا تو پھر بھی نماز ہو جائے گی۔ہاں اگر موقع مل سکے تو نماز شروع کرتے ہوئے قبلہ کی طرف منہ کر لیا جائے پھر خواہ کسی طرف منہ ہو جائے۔لیکن اگر گھر میں بغیر بیماری کے آرام کرسی پر بیٹھی کر کوئی شخص اپنی ایک ٹانگ کرسی کے ایک بازو پر رکھ لے اور دوسری ٹانگ کرسی کے دوسرے بازو پرا پھر نماز پڑھنا شروع کر دے تو اُس کی نماز نہیں ہوگی۔یا مسجد میں وہ امام کے ساتھ صرف ایک رکعت نماز پڑھ کر آ جائے اور ایک رکعت گھر میں پڑھ لے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔غرض قرآن کریم نے جس نماز کے متعلق یہ کہا ہے کہ تم قصر کر لو وہ سفر کی نماز نہیں بلکہ نماز خوف ہے۔اور جو سفر کی نماز ہے وہ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسرے صحابہ کی روایات سے ثابت ہے وہ اتنی ہی ہے جتنی کہ پہلے نماز فرض ہوئی تھی۔ہاں ایک عرصہ کے بعد حضر میں اسے دگنا کر