خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 146

$1950 146 خطبات محمود کہ ادھر نماز شروع کی اور اُدھر فور ارکوع میں چلے گئے۔پھر جلدی سے سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے۔ایک دو دفعہ سجدہ میں سرما را تو پھر جلدی سے دوسری رکعت شروع کر دی۔یہ نماز نہیں بلکہ نماز کے ساتھ تمسخر ہے۔تو نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اور آہستگی سے ادا کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔لیکن قرآن کریم بتاتا ہے کہ جب خوف ہو تو پھر تمہارے لئے نماز کو قصر کر لینا جائز ہے۔یعنی اسے چھوٹا کرنے اور جلدی جلدی ادا کر لینے کی ہماری طرف سے اجازت ہے۔یوں عام حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔مگر جب لڑائی ہورہی ہو تو اُس وقت قصر کر لینا جائز ہے۔یعنی اُس وقت اگر انسان جلدی جلدی نماز پڑھ لے تو اس کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ جب دشمن مسلمانوں پر حملہ آور ہو اور وہ ان کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہوتو چونکہ کسی اسلامی ملک پر دشمن کا قبضہ کر لینا ایک بڑی آفت ہے اور نماز کو جلدی جلدی پڑھ لینا یا نماز کو مختصر کر لینا ایک چھوٹی آفت ہے اس لئے شریعت یہ کہتی ہے کہ تم بڑی آفت کو نہ آنے دو اور چھوٹی آفت کو برداشت کرلو۔پھر آگے اس قصر کی اسلام نے کئی قسمیں بتائی ہیں۔ایک قسم ایسی ہے جس میں صرف ایک رکعت نماز ہی پڑھی جاتی ہے دو رکعتیں نہیں پڑھی جاتیں۔اور ایک قسم ایسی ہے جس میں ایک ایک رکعت جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور ایک ایک رکعت انفرادی طور پر ادا کی جاتی ہے۔پہلے آدھی فوج امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھتی ہے پھر وہ چلی جاتی ہے اور دوسری فوج اس کی جگہ آکر ایک رکعت پڑھتی ہے اور باقی ایک ایک رکعت سپاہی اپنے اپنے طور پر ادا کر لیتے ہیں۔اس قصر کے ساتھ خوف کا ہونا ایک لازمی شرط ہے۔اگر خوف نہ ہو تو قصر کرنا جائز نہیں۔مثلاً اسلامی لشکر میدانِ جنگ میں ڈیرے ڈالے پڑا ہو لیکن فرض کر ولڑائی نہیں ہو رہی تو اُس وقت جلدی جلدی نماز پڑھنے اور نماز کو قصر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ اُس وقت وہی قاعدہ جاری ہوگا جو عام حالات میں جاری ہے۔م یعنی سفر کی حالت ہو تو اُس وقت دو رکعت نماز پڑھی جائے گی اور حضر کی حالت ہو تو چار رکعت نماز پڑھی ہے جائے گی۔لیکن جب خوف کی حالت ہو تو اُس وقت قصر کر لینا جائز ہے۔مثلاً اسلامی فوج کا ایک سپاہی دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لئے گیا تھا کہ اُس کا دشمن کو علم ہو گیا۔وہ گھوڑے کو دوڑا تا ہوا واپس آ رہا ہے اور پچاس ساٹھ سپاہی اُس کے تعاقب میں ہیں کہ راستہ میں نماز کا وقت آ گیا۔اب اگر وہ ٹھہر جاتا ہے یا گھوڑے سے اتر کر نماز پڑھنے لگ جاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ پکڑا جائے گا اور ی