خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 227

$1950 227 خطبات محمود پر کتنا چھوٹا پھل ہے لیکن ریڈ بلڈ کے متعلق اندازہ ہے کہ ایک درخت پر دوسو یا اڑھائی سو مالٹے لگتے ہیں۔اور یہ بھی قیاسی اندازے ہیں ہم نے تو اتنے مالٹے بھی ایک درخت پر لگتے نہیں دیکھے۔پس حسابی اندازے سے ساری غلطیاں دور ہو جاتی ہیں اس لئے پہلے حسابی اندازہ لگانا چاہیے۔اور پھر اس حسابی اندازے کو پورا کرنا چاہیے اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ فلاں چیز ایسے ہوتی ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ محنت کر کے اُس نتیجہ کو جو حسابی لحاظ سے نکلتا ہے پیدا کرے۔ہمارے ملک میں لوگ عموماً یہ کہ دیتے ہیں کہ فلاں کام یوں ہو گا پھر اگر وہ کام اُس طرح نہ ہو تو کہہ دیتے ہیں خدا تعالیٰ نے کوئی نحوست نازل کر دی ہے کہ باوجود پوری کوشش کے ہمارا کام تباہ ہو گیا۔غرض پہلے تو اندازہ نہیں لگایا جا تا اور جب وہ کام خراب ہو جائے تو ساری غلطیاں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ مسیح الاول فرمایا کرتے تھے ہمارے ملک میں اللہ تعالیٰ کے معنے ہیں ” کچھ نہیں۔ایک غریب سے غریب آدمی کے پاس ایک پیسہ ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہو سکتا۔اور اس کی تشریح آپ یوں فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص کنگال ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے ہم تو برباد ہو گئے گھر میں صرف اللہ ہی اللہ ہے۔آپ فرماتے تھے اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں۔غرض ہمارے ملک میں یہ مرض عام ہو گئی ہے کہ ہر عیب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور ہر خوبی اپنی طرف منسوب کی جاتی ہے۔میں نے سندھ کی زمینوں پر اپنے ایک عزیز کو مقرر کیا ہوا ہے اس کے شروع میں یہ اندازے ہوتے ہیں کہ دس من کپاس یا بارہ من گندم فی ایکڑ نکلے گی۔لیکن آخر سال میں وہ ہمیشہ اس کے نصف یا دو تہائی پر آ جاتا ہے۔پھر کہہ دیا جاتا ہے ہم نے تو خوب کام کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی آفت آئی ہے کہ اس نے ہمارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے میں وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ 3 میں بیمار ہو گیا ہوں شفاء اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔بجائے اس کے کہ عیب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے عیب کو اپنی طرف منسوب کرنا چاہیے کیونکہ بات بھی یہی درست ہے اور آئندہ اصلاح کی طرف توجہ بھی اسی نظریہ سے ممکن ہوتی ہے۔وہ کام صحیح ہو ہی کیسے سکتا ہے جس کا نتیجہ غلط ہو۔تم ایک سیر پانی کے اندر دو چھٹانک شکر ڈال دو اور کہو کہ پانی میٹھا نہیں ہوگا تو تو اسے کون مان سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ شکر ایک حد تک پہنچ کر پانی کو میٹھا کر دیتی ہے تم