خطبات محمود (جلد 31) — Page 228
$1950 228 خطبات محمود اس قانون کو پورا کر لو پھر اس کو غلط کرنے کے لئے پورا زور لگا لو تم اسے ہرگز غلط نہیں بنا سکتے۔یا پانی میں اس حد تک کو نین ملا لو کہ پانی کڑوا ہو جائے اور پھر پورا زور لگا لو کہ پانی کڑوا نہ ہو تو تم ایسا نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ کے قانون کو کوئی انسان بدل نہیں سکتا۔پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قانون تو پورا ہو لیکن نتیجہ غلط نکلے۔خدا تعالیٰ کی طرف عیب منسوب کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری برکتیں جاتی رہتی ہیں۔بے شک حادثات بھی آتے ہیں لیکن حادثات کبھی کبھی آتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ حادثہ قانون بن جائے اور قانون حادثہ بن جائے۔مثلاً وبائیں پڑتی ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ ہر سال و بائیں پڑیں اور کبھی کبھی لوگ ان سے بچیں۔یا لوگ بیمار ہوتے ہیں لیکن جوانی کی عمر میں کبھی کبھی بیمار ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ کسی ملک کے تمام لوگ جوانی میں بیمار رہتے ہوں۔پس حادثہ بیشک آتا ہے لیکن حادثہ استثناء ہوتا ہے۔اور قانون استثناء پر غالب ہوتا ہے استثناء قانون پر غالب نہیں ہوتا۔اگر ایک شخص قانون کے خلاف دس سال بھی اندازہ کرتا چلا جائے گا تو وہ ہمیشہ ناکام رہے گا۔ناکام رہنے پر اُسے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے نگا کر دیا ہے لیکن ضدی انسان سارے حادثات کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر تا تی ہے۔ہر روز وہ غلط کام کرتا ہے اور اچھا اندازہ لگاتا ہے پھر نتیجہ خراب ہوتا ہے مگر وہ کہتا یہ ہے کہ میں نے تو ٹھیک کام کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے ہی کوئی آفت نازل کر دی۔حقیقت یہ ہے کہ اگر بُرا نتیجہ نکلتا ہے تو یا اُس کا کام غلط ہوتا ہے یا پھر اس نے کام کیا ہی نہیں ہوتا۔ان دونوں باتوں میں سے ایک بات ضروری ہوتی ہے۔تم اگر اپنے کاموں کو درست بنانا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہی ہے کہ جب تم کوئی کام شروع کرو تو پہلے اُس کا حسابی اندازہ لگایا کرو۔پھر حسابی طور پر یہ اندازہ لگاؤ کہ اس کو پورا کرنے کے لئے کیا کیا سامان ضروری ہیں۔اور وہ پورے ہیں یا نہیں۔یہ نہ کہو کہ فلاں افسر نے کہا تھا کہ بات یوں ہے مگر بعد میں وہ بات غلط نکلی کیونکہ خدا تعالیٰ نے تم کو عقل خود سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لئے دی ہے لوگوں کی باتوں پر اندھا دھند یقین کرنے کے لئے نہیں دی۔پس ہر کام کے لئے ضروری ہے کہ اُسے شروع کرنے سے پہلے اس کا اندازہ لگایا جائے۔پھر م ضروری ہے کہ اس کے سامان کو دیکھا جائے کہ آیا وہ موجود ہیں۔پھر یہ دیکھا جائے کہ ان کو مناسب وقت اور مناسب جگہ پر مہیا کرنے کے سامان موجود ہیں یا نہیں۔جب یہ اندازہ لگ جائے اور حساب سے معلوم ہو جائے کہ ہر چیز مکمل ہے تو پھر دیانتداری سے کام کرو۔حساب میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں