خطبات محمود (جلد 31) — Page 226
$1950 226 خطبات محمود ہوتے ہیں حسابی بنیاد۔اور قیاس کے معنے یونہی تک بندی کے ہوتے ہیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ میں باغ کی سیر کر رہا تھا چلتے چلتے میں چکوترے کے ایک درخت کے پاس آیا۔میرے پاس ایک مالی تھا جو پنجابی تھا لیکن ایک لمبا عرصہ ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے اس کے طور و طریق ہندوستانی تھے۔میں نے چکوترے کے ایک درخت کو دیکھا تو می اندازہ کیا کہ شاید 40،30 ہزار پھول لگا ہوا تھا۔میں نے مال کو بلایا اور کہا۔دیکھو! درخت پر کتنا پھول لگا ہے۔اگر یہ سارے پھول رہ جائیں تو ایک ہی درخت کتنا پھل دے جاتا ہے۔میں تو تصوف کے نکتہ سے اسے دیکھ رہا تھا کہ دنیا میں کتنی ہی قیمتی چیزیں ایسی ہیں جو ضائع ہو جاتی ہیں۔لیکن مالی چونکہ آگے بڑھ کر بات کرنے اور خوشامدانہ بات کرنے کا عادی تھا اس نے کہا حضور ! سارے پھل لگیں گے۔میں نے کہا یہ تو بڑی تعداد میں پھول ہیں۔اگر اتنے چکوترے اس درخت پر لگ جائیں تو درخت کی ذرہ بھر بھی لکڑی باقی نہ رہے۔یہ تو اس کا سواں حصہ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔لیکن وہ مالی کہے جار ہا تھا نہیں حضور اتنا پھل لگے گا۔میں نے کہا اچھا جب لگے گا تو دیکھیں گے۔لیکن جب اس درخت پر پھل لگا تو وہ صرف ایک چکوتر تھا۔مالی جو کچھ کہ رہا تھاوہ قیاس تھا۔اگر وہ حسابی اندازہ لگا تا تو وہ پہلے یہ اندازہ لگاتا کہ اس درخت پر کتنے پھول لگے ہیں کیونکہ ایک ایک بالشت میں سو سوا سو پھول لگتے ہیں لیکن وہ گر جاتے ہیں۔مثلاً آم کا مورے ہوتا ہے اگر وہ سارا پھل بنے تو ایک دو درخت کا پھل باغ کے پھل سے زیادہ ہو جائے کیونکہ ایک ایک چھتی میں اتنا مو رہوتا ہے کہ میرے خیال میں وہ چالیس پچاس آم کے برابر ہو جاتا ہے۔باجرے کے برابر دانے ہوتے ہیں اور پھر وہ بالکل پاس پاس ہوتے ہیں۔تو حسابی اندازہ یہ تھا کہ وہ دیکھتا درخت پر کتنے پھول لگے ہیں اور پھر کتنی تعداد میں چکوترے لگیں گے اور پھر یہ درخت کتنا بوجھ برداشت کر سکے گا۔مثلاً ایک چکوترا اگر نصف سیر کا سمجھ لوتو ہزار چکوترے لگنے کے معنے ہیں کہ اُس درخت پر پانچ سوسیر یعنی ساڑھے بارہ من بوجھ پڑے گا۔ایک سات فٹ کے درخت پر اتنا پھل اگر لگ جائے تو وہ تباہ ہو جائے۔مالی تو کہتا تھا کہ اس درخت پر ہزاروں چکوترے لگی جائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک درخت پر ہزار ڈیڑھ ہزار چکوتر ابھی نہیں لگ سکتا اور پھر بڑا چکوترا تو غالبا سیر سیر کا بھی ہوتا ہے۔اس حساب سے تو اڑھائی تین سو چکوتر الگنا بھی مشکل ہے۔اور جہاں تک تی میرا تجربہ ہے ایک درخت پر ستر اسی سے زیادہ چکوترے نہیں لگتے۔مالٹا کو دیکھ لو چکوترے کے مقابل