خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 121

$1950 121 خطبات محمود اور انہوں نے ایک معاہدہ کیا جس کے رو سے وہ اشتعال انگیز امور جو فساد کا موجب بنے ہوئے تھے اُن کی بہت کچھ اصلاح ہوگئی اور طبائع میں جو جوش پایا جا تا تھا وہ کم ہو گیا۔ادھر دونوں حکومتوں نے بھی پورا تہتا کرلیا کہ وہ اختلافی مسائل کو باہمی سمجھوتہ سے طے کرنے کی کوشش کریں گی اور فسادوں کو بڑھنے نہیں دیں گی نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائی رک گئی۔ورنہ اگر لڑائی ہو جاتی تو چند میل کے فاصلہ پر آپ لوگ بیٹھے ہیں اگر چند میل دشمن آگے بڑھ آتا تو وہی نظارے اور وہی باتیں آپ کو بھی نظر آتیں جو مشرقی پنجاب میں کچھ لوگ دیکھ چکے ہیں اور باقی لوگوں نے سنی ہوں گی۔لیکن انسان کی عادت ہے کہ وہ امن میسر آنے پر غافل ہو جاتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ منافقوں کی یہ علامت بیان فرماتا ہے کہ جب انہیں روشنی نظر آتی ہے وہ کام کرنے لگ جاتے ہیں اور جب تاریکی ہو جاتی ہے تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔1 لیکن یہ تو ایک عام جد و جہد کے متعلق قانون ہے کہ جب سہولت اور آرام کا وقت ہوتا ہے لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، آپس کے تعلقات کو قائم رکھتے ہیں بلکہ ان تعلقات کو بڑھانے کے لئے سوسوتد بیر میں اختیار کرتے ہیں۔اور جب انہیں تکلیف نظر آتی ہے یا وہ محسوس کرتے ہیں کہ اب ہمیں تعلقات رکھنے سے کسی فائدہ کی امید نہیں ہو سکتی تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔لیکن وہ خاص جد و جہد جوفتنہ وفساد کے اوقات میں کی جاتی ہے اُس کے متعلق ہمیں عام طور پر یہی نظر آتا ہے کہ جب امن ہو لوگ غافل ہو جاتے ہیں اور جب خوف اور فتنہ و فساد کا وقت ہو تو اٹھ کر تیاری کرنے لگ جاتے ہیں۔مگر نہ وہ تیاری کسی کام کی ہوتی ہے اور نہ امن کسی مصرف کا ہوتا ہے اس لئے کہ جو امن ہوشیاری اور قربانی کی روح سے خالی ہوتا ہے وہ امن نہیں بلکہ موت کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔اگر کوئی قوم سہولت اور امن کے دنوں میں سو جاتی ہے اور کہتی ہے مجھے آرام کرنے دووہ دوسرے الفاظ میں دشمن کو یہ دعوت دیتی ہے کہ آؤ اور میرے ملک پر قبضہ کر لو میں لڑنے کے لئے تیار نہیں۔ایسے آدمی جب فساد شروع ہوتا ہے تو سب سے زیادہ گھبراتے ہیں اور وہی سونے والے سب سے زیادہ بھاگنے والے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے کوئی تیاری نہیں کی ہوتی۔پس ایسے آدمیوں کو جو دشمن کے بالکل قریب رہتے ہوں اور پھر خصوصاً ایسی جماعت کو جو چاروں طرف سے دشمنوں میں گھری ہوئی ہو ہر وقت تیار رہنا چاہئے اور اپنے اندر بیداری کی روح پیدا کرنی چاہیے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے کہ پاکستان میں اس وقت مسلمانوں کی اپنی حکومت ہے اور وہ