خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 120

$1950 120 (19 خطبات محمود ہمیں آنے والے حالات کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہیے (فرموده 11 راگست 1950ء بمقام ناصر آبادسندھ ) (غیر مطبوعہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” بیماری اور سفر کی کوفت کی وجہ سے میں آج دونوں نمازیں اکٹھی پڑھاؤں گا پہلے جمعہ کی نماز ہو گی اور پھر ساتھ ہی عصر کی نماز پڑھادی جائے گی۔خطبہ بھی میں زیادہ نہیں دے سکتا کیونکہ ابھی پاؤں کی ایسی حالت ہے کہ میں کھڑا نہیں ہو سکتا گو پہلے سے افاقہ ہے لیکن پھر بھی کھڑے ہونے سے تکلیف بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔اس کے علاوہ رستہ میں شاید ہوا لگنے سے کھانسی کی شکایت بھی پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے زیادہ دیر بولنا میرے لئے مشکل ہے۔میں جماعت کو پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں اور اب پھر یہاں کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ مقام جس جگہ پر وہ آکر بسے ہیں اپنے اندر بہت زیادہ نزاکت اور اہمیت رکھتا ہے۔یہاں سے بارڈر بالکل قریب ہے۔جب پچھلی دفعہ میں یہاں سے گیا اُس وقت لڑائی بالکل تیار کھڑی تھی۔ہم جب موٹروں میں رات کو گزرے تو ہم نے دیکھا کہ پاکستانی فوج رات کی تاریکی میں آہستہ آہستہ بارڈر کی طرف بڑھ رہی تھی اور جب ہم پنجاب پہنچے تو معلوم ہوا کہ سیالکوٹ اور لاہور کے علاقہ میں تمام پاکستانی فوج اپنے مورچے سنبھال چکی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا اور اس نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کو اس بات کی تو فیق عطا فرما دی کہ وہ آپس میں مل کر بیٹھیں اور ایسی تدابیر اختیار کریں جن سے فتنہ و فساد کی آگ مشتعل نہ ہو۔چنانچہ نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب اور پنڈت نہرو کا آپس میں سمجھوتہ ہوا