خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 111

$1950 111 خطبات محمود نے کہا اچھا آج سے میں آپ میں سے کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا کیونکہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ نماز صرف مومن کے پیچھے پڑھنی چاہیے۔مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آکر شکایت کی۔آپ نے فرمایا حافظ صاحب کو دوسروں کے پیچھے نماز تو نہیں چھوڑنی چاہیے تھی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی بات درست ہے۔یہ انکسار کا موقع نہیں تھا بلکہ حقیقت کے اظہار کا موقع تھا۔اگر کوئی شخص آپ لوگوں سے دریافت کرے کہ کیا آپ انسان ہیں؟ تو کیا آپ یہ کہہ دیں گے کہ تو بہ تو بہ میں کہاں انسان ہوں؟ اسی طرح جو امور ایک مومن کی شان کے شایاں ہیں اُن کا واضح طور پر اقرار کرنا چاہیے۔غرض اگر یہ بات صرف عام مسلمانوں میں ہوتی تو اور بات تھی لیکن احمدیوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس آیت کا صرف یہ مفہوم ہے کہ اس سے امتی نبوت کا اجراء ثابت ہوتا ہے۔لیکن وہ اس بات کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ اس سے نیچے بھی بعض درجات ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے جہاں ان درجات کا ذکر فرمایا ہے وہاں صفائی کے ساتھ ان کے حصول کا طریق بھی بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ نساء میں فرماتا ہے: وَلَو انَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيْتَان وَإِذَا لَّا تَيْنَهُمْ مِنْ لَدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا وَلَهَدَيْنَهُمُ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ مِّنَ النَّبِيَّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَيكَ رَفِیقان 5 فرماتا ہے اگر ہم مسلمانوں پر یہ فرض کر دیتے کہ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ تم اپنے آپ کو قتل کر دو۔اَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ یا تم اپنے وطن چھوڑ کر باہر نکل جاؤ۔مَا فَعَلُوہ تو یہ کبھی ایسا نہ کرتے۔إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ مگر تھوڑے جن کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ت ہے۔وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا اور اگر وہ ایسا ہی کرتے جیسا کہ انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنے نفسوں کو قتل کر دو یا اپنے آپ کو بے وطن کر دو تو یہ موت ان کے لئے حیات کا موجب ہوتی اور یہ اجڑنا ان کے لئے قائم ہونا ہوتا۔دیار سے اجڑ جانے