خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 110

$1950 110 خطبات محمود تو خوش ہونے کی کوئی وجہ ہوسکتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی اور ی مامور بنا دیا ہے تو صدیقیت کا بھی کوئی انکار نہ رہا ہم صدیق بنتے ہیں۔لیکن اگر تم صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر خوش ہو جاتے ہو اور خود چُپ کر کے بیٹھ جاتے ہو تو اس سے تمہیں کیا فائدہ؟ غرض اگر تم یہ سوچو کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبوت کا درجہ مل گیا ہے تو آؤ ہم بھی منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کریں تو یہ بڑی عمدہ بات ہے۔لیکن اگر تم اپنے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے ، نہ صدیق بنے کی کوشش کرتے ہو، نہ شہید بننے کی کوشش کرتے ہو، نہ صالح بننے کی کوشش کرتے ہو تو محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نبی بن جانے سے تمہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔تمہارا فائدہ تو اس میں ہے کہ تم خود بھی کوئی مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک نابینا حافظ تھے جن کا نام میاں محمد تھا۔وہ پشاور کے رہنے والے تھے۔ان میں دین کا بڑا جوش تھا اور اتنے نڈر تھے کہ اس قسم کا نڈر شخص دنیا میں بہت کم ہوتا ت ہے۔اگر انہیں رات کے بارہ بجے بھی خیال آجاتا کہ لوگوں کو نماز کی تلقین کرنی چاہیے تو وہ دروازے کھٹکھٹا دیتے۔اور اگر گھر والا باہر آتا تو اُسے کہتے میاں! کیا تم نماز پڑھا کرتے ہو یا نہیں؟ اُن کی دلیری اور جرات کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ بھی اُن سے ڈرتے تھے۔چنانچہ ایک افسر جو پشاور کے پویٹیکل ایجنٹ ہونے والے تھے ایک دن انہوں نے ان کا دروازہ بھی کھٹکھٹا دیا۔ملازم آیا اور پوچھا کون ہو؟ انہوں نے کہا حافظ محمد ہوں اور کلمہ حق پہنچانے آیا ہوں۔پولیٹیکل ایجنٹ صاحب نے کہا کہ میں آج بہت تھکا ہوا ہوں۔انہوں نے کہا اگر مر گئے تو پھر کیا ہوگا؟ پولیٹیکل ایجنٹ نے بہانہ بنا کر کہ وہ کل سارا دن انہیں دیں گے اپنا چھٹکارا کرایا اور نوکروں کو تلقین کر دی کہ دوسرے دن انہیں کوٹھی کے قریب نہ آنے دیں۔حافظ صاحب جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے آئے تو م ان کے اندر بھی وہی جوش موجزن رہا۔ایک دفعہ وہ جلسہ سالانہ سے واپس گھر جا رہے تھے اور بھی کئی ہی دوست ساتھ تھے کہ رستہ میں بحث شروع ہو گئی کہ ہم مومن ہیں یا نہیں۔پرانے طریق کے مطابق ایک شخص نے کہا کیا ہم اتنا بڑا دعویٰ کر سکتے ہیں ہم تو گنہگار آدمی ہیں۔خدا تعالی بخش دے تو بخش دے۔اسی طرح دوسرے اور پھر تیسرے نے کہا۔مولوی عبدالکریم صاحب نے بھی پرانے خیالات کی رو میں بہہ کر کہ دیا کہ ہم کمزور اور گنہگار ہیں اگر خدا تعالیٰ بخش دے تو اُس کی ذرہ نوازی ہے۔حافظ صاحب