خطبات محمود (جلد 31) — Page 112
$1950 112 خطبات محمود کے معنے یہ ہیں کہ ان کا کوئی سہارا نہ رہا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو بے وطن کر دیتے تو یہ بات اُن کے قدموں کو گاڑنے والی ہو جاتی۔و اِذا لَّا تَيْنَهُمْ مِنْ لَّدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا - وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا اور اس صورت میں علاوہ اس کے کہ ہم انہیں اجر عظیم عطا کرتے اور ان کے قدموں کو گاڑ دیتے ہم انہیں زائد انعام بھی دیتے اور اس کے نتیجہ میں انہیں صراط مستقیم ملتی۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَيْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيْنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصُّلِحِينَ۔وہ صراط مستقیم یہ ہے کہ جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کرتا ہے وہ اس گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔یعنی ایسے لوگ نبی ، صدیق ، شہید اور صالح بن جاتے ہیں۔وَحَسُنَ أُولَيْكَ رَفِيقًا اور یہ لوگ بہت اچھے رفیق ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بتایا ہے کہ وہ صراط مستقیم کیسے ہوتا ہے جس پر چلنے کے نتیجہ میں انسان نبی ، صدیق شہید اور صالح بن سکتا ہے۔فرماتا ہے وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ ن اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُم جب انسان اتنا پختہ ایمان والا ہو جاتا ہے کہ اگر اسے یہ احکام ملیں کہ اپنی جان دے دو تو وہ بڑی خوشی سے اُس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اور اگر اُسے یہ احکام میں کہ تم بے وطن ہو جاؤ تو وہ بڑی خوشی سے اس پر عمل پیرا ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں اسے صراط مستقیم میسر آ جاتا ہے۔مگر ایک احمدی اول تو یہ نہیں سوچتا کہ صراط مستقیم ہے کیا؟ اور اگر اسے پتہ لگ جاتا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ یہاں صرف حضرت مسیح موعود کا ہی ذکر نہیں بلکہ میرا بھی ذکر ہے اور اس سے پچھلی آیتوں میں صراط مستقیم کو حاصل کرنے کا طریق بھی بیان کیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص ان دو باتوں پر قائم ہو جاتا ہے تو قرآن کریم میں بیان کردہ چار درجات میں سے ایک درجہ اُسے ضرور مل جاتا ہے۔اگر وہ جان دینے کے لئے اور بے وطن ہونے کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے اور وقت آنے پر وہ ایسا کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے تو اُسے شہید کا درجہ مل جاتا ہے۔اور اگر وہ صرف تیار ہی نہیں بلکہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی اس کی تلقین کرنے لگ جاتا ہے اور انہیں ابھارتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے جان دینے اور بے وطن ہونے سے بہتر اور کونسی بات ہے تو اسے صدیق کا درجہ مل جاتا ہے۔اور اگر اسے جان دینی پڑتی ہے یا دین کے لئے