خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 94

$1950 94 خطبات محمود ہمسایہ کا خیال نہ رکھو۔اگر حضرت آدم علیہ السلام نے یہ کہا ہوتا تو وہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ نہیں کہلاتی سکتے۔حضرت نوح علیہ السلام نے بھی کہا ہوگا تو یہی کہا ہو گا کہ تم دوسرے شخص کا مال نہ کھاؤ۔اُس پر ظلم نہ کرو، اُس سے حسن سلوک کرو۔ہم یہ مان نہیں سکتے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے وقت میں یہ تعلیم دی ہو کہ اے لوگو! تم دوسروں کا مال لوٹ کر کھا جاؤ، ان پر ظلم کرو، ان سے حسن سلوک نہ کرو لیکن ان کو جھٹلانے والے لوگ کہتے تھے کہ ہم ایسا نہیں کہیں گے۔اور خدا تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کو الہام کرتا تھا کہ یہ لوگ جو دوسروں کا نقصان نہیں کرتے ، بددیانتی نہیں کرتے ، دوسروں پر ظلم نہیں کرتے ، بلکہ اُن سے حُسنِ سلوک کرتے ہیں یہ بددیانت ہیں، بے ایمان ہیں میں ان پر عذاب نازل کروں گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا ہے وہ وہی ہے جو آدم علیہ السلام نے اپنی قوم کی سے کہا ، جو نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا ، جو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔یہ وہ چیز ہے جو آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک چلتی چلی آئی ہے۔اگر اس تعلیم پر دنیافی الواقع عمل کرنے لگ جائے تو کیا کوئی لڑائی باقی رہ سکتی ہے؟ اگر دونوں فریق اسی بات پر تیار ہو جائیں کہ وہ دوسرے کا مال نہیں اٹھا ئیں گے، دوسرے کو ذلیل نہیں کریں گے تو امن قائم ہو جاتا ہے اور لڑائی ہو ہی نہیں سکتی۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارا دشمن بھی تم سے پیار کرنے لگ جائے گا2 اور اگر تم ایسا کی نہ کرو گے تو تمہاری آپس میں محبت نہیں ہوگی۔اور اگر محبت نہ ہوگی تو پھر یہ وہی اُستادی بن جاتی ہے جو کسی نے بگلے پکڑنے کے لئے بتائی تھی۔اگر تمہاری آپس میں محبت ہے تو دوسرے کے ساتھ لڑائی کا خیال بھی تمہارے ذہن میں نہیں آ سکتا۔مثلاً میاں بیوی ہیں۔وہ آپس میں محبت رکھتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، ایک دوسرے کی خوشی سے وہ کی خوش ہوتے اور ایک دوسرے کی نمی سے غم محسوس کرتے ہیں۔کیا تم ان کے متعلق کبھی یہ خیال بھی کر سکتے ہو کہ بیوی ایک طرف کسی وقت بیٹھی ہو اور تم اس سے پوچھو بی بی! کیا کر رہی ہو؟ تو وہ کہے کہ میں اپنے خاوند کو مارنے کے لئے ایٹم بم تیار کر رہی ہوں۔یا خاوند ایک الگ جگہ تجربہ کر رہا ہو اور پوچھنے پر وہ کہے میں اپنی بیوی کو ہلاک کرنے کے لئے ایٹم بم تیار کر رہا ہوں۔اگر میاں بیوی کے درمیان محبت ہوگی تو ایک دوسرے کو ہلاک کرنا تو کیا سخت کلامی اور سخت چہرے کا بھی ایک دوسرے کو خیال نہیں آ سکتا۔پس ایٹم بم کی استادیاں تو جبھی سوجھتی ہیں جب ہم دوسرے کو چھیڑیں گے اور دوسرے کے متعلق اپنے اندر