خطبات محمود (جلد 31) — Page 95
$1950 95 خطبات محمود بغض پیدا کریں گے۔جب بغض پیدا ہو جائے گا تو باہم لڑائیاں ہوں گی۔لیکن سیدھی سادھی بات ہے کہ ایک دوسرے کو چھیڑو ہی نہیں۔بغض پیدا ہی نہ کرو۔سائنس آج سے پہلے بھی موجود تھی۔دنیا ماضی میں بھی ایٹم بم بنا سکتی تھی۔لیکن پہلے زمانہ میں لوگوں میں ایک دوسرے کے متعلق اس قدر بغض نہیں تھا جس قدر آجکل ہے۔بغض نے لوگوں کے اندر جوش پیدا کیا اور اتنا پیدا کیا کہ انسان نے سوچا کہ جب تک میں کوئی بھاری چیز تلاش نہ کروں میرا جوش ٹھنڈا نہیں ہو سکتا۔جتنا جوش پیدا ہوا اتنا سموع بھی پیدا ہوا۔کیونکہ اگر کسی سے محبت ہوتی ہے تو ہزاروں قسم کے ایسے خیالات اٹھتے ہیں جو محبت پر دلالت کرتے ہیں۔اور اگر بغض ہوتا ہے تو ہزاروں قسم کے خیالات اٹھتے ہیں جو بغض پر دلالت کرتے ہیں۔ایٹم بم بغض پر دلالت کرنے والا ذریعہ ہے۔جب بغض بڑھ گیا تو اس کو نکالنے کے لئے تجویزیں سوچی گئیں۔مثلاً ایک شخص دوسرے کو تھپڑ مارتا ہے اور اپنا بغض نکال لیتا ہے لیکن جب بغض بڑھتا ہے اور اتنا بڑھتا ہے کہ تھپڑ سے وہ نکل نہیں سکتا تو وہ تجربہ کرتا ہے کہ اس طرح گھونسامارا جائے۔وہ گھونس مارتا ہے اور اس کا جوش ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد وہ خیال کرتا ہے کہ گھونسا مارنا بغض نکالنے کا کوئی اچھا ذریعہ نہیں۔وہ اور آگے بڑھتا ہے اور ڈنڈا نکالتا ہے۔پھر اس پر کچھ عرصہ چلتا ہے۔پھر وہ سمجھتا ہے کہ ڈنڈا مارنے سے بھی اس کی تذلیل اتنی نہیں ہوئی کہ اس سے بغض نکل جائے۔وہ اسے جوتی مارتا ہے تا اس کی تذلیل ہو۔پھر چاقو نکل آتا ہے، چھری نکل آتی ہے، تلوار بنتی ہے اور بندوق بنتی ہے۔یہ سب غصہ کی علامات ہیں۔جب غصہ کا معیار بلند ہو جاتا ہے تو پھر پہلے آلات جن سے غصہ نکل جاتا تھا حقیر معلوم ہوتے ہیں۔جیسے شاعر محبت کرتے ہیں، اگلے شاعر پچھلے شاعروں سے اتنی محبت سیکھ لیتے ہیں جتنی وہ جانتے ہیں۔پھر اس میں اور ترقی کرتے ہیں، پھر اور ترقی کرتے ہیں۔اس طرح شاعری بڑھتی جاتی ہے۔درحقیقت شاعری بڑھتی ہی پچھلے تجربوں کی بناء پر ہے۔جب دنیا کی تسلی پچھلی شاعری سے نہیں ہوتی تو پھر شاعر اور زیادہ مبالغہ کرنے لگ جاتا ہے اور پھر اور مبالغہ کرتا ہے اور اس طرح شاعری ترقی کر کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتی ہے۔غرض دنیا کی صداقتیں بہت چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں جن کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو بے ایمانیاں، بد دیانتی اور دغا بازیاں پیدا ہوتی ہیں۔ورنہ مذہب جو چیزیں بتاتا ہے اُن میں سے ایک بھی ایسی نہیں ہوتی جسے نظر انداز کیا جائے۔اگر لوگ مذہب پر پوری طرح کار بند ہو جائیں تو آپس میں لڑائیوں کا