خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 93

$1950 93 خطبات محمود لیٹ کر وہاں تک جانا اور وہ موم اُس کے سر پر رکھ دینا۔اس کے بعد تھوڑی دُور پرے ہٹ کر بیٹھ جانا اور ہوشیار رہنا۔سورج نکلے گا تو دھوپ کی وجہ سے موم پچھلے گی اور پکھل کر اُس کی آنکھوں میں پڑے گی وہ اندھا ہو جائے گا اور اُسے آنکھوں سے کچھ دکھائی نہیں دے گا۔پھر آہستہ آہستہ جا کر اُسے پکڑ لینا۔اس شخص نے کہا میں صبح سویرے اتنا فاصلہ طے کر کے دریا پر جاؤں گا۔پھر رینگ رینگ کر اور چھپتے چھپتے بنگلے کے پاس پہنچوں گا، اس کے سر پر موم رکھوں گا اور پھر پرے ہٹ کر بیٹھا رہوں گا کہ سورج نکلے اور سوم پکھل کر اس کی آنکھوں میں جا پڑے اور وہ اندھا ہو جائے تب میں اُسے پکڑوں۔تو کیوں نہ میں اُس وقت ہی اُسے پکڑلوں جب میں اُس کے سر پر موم رکھنے جاؤں۔اس نے کہا پھر استادی کیا ہوئی۔دنیا کے اکثر انسان ایسے ہی بیوقوف ہیں جیسے وہ شخص جس نے بنگلے کے پکڑنے کا یہ طریق بتایا۔وہ ہمیشہ پیچیدہ اور ٹیڑھے رستوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔سیدھی سادھی بات جو مجرب ہو اور پھر ایک دفعہ نہیں ہزار ہا دفعہ تجربہ میں آئی ہو اور ہر ایک کے علم میں ہو وہ اختیار نہیں کرتے۔مذہب کیا ہے؟ جہاں تک اس کا بنی نوع انسان سے تعلق ہے وہ چند موٹے موٹے اخلاق کا نام ہے جو ایسے نہیں جو نئے ہوں یا جن کا تجربہ نہ ہوا ہو بلکہ وہ ہزاروں نہیں لاکھوں آدمیوں کے تجربہ میں آئے ہیں اور ان کے نتائج دیکھے گئے ہیں۔مگر لوگ انہیں اختیار نہیں کرتے اور وہ ایسے رستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو پیچیدہ ہوں۔وہ ان کی بجائے بجلی کی مشینوں اور ایٹم بم کی تلاش میں رہتے ہیں کہ وہ کسی طرح ایجاد کریں تا انہیں استعمال کیا جائے۔مثلاً مذہب یہ سکھاتا ہے کہ دوسروں سے حسن سلوک کرو، کسی پر ظلم نہ کرو، کسی کامال نہ کھاؤ۔اب یہ چیزیں نئی نہیں ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے نبیوں میں سے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے یہ تعلیم دی ہو کہ تم دوسروں کا مال کھا لو، دوسرے لوگوں پر ظلم کرو۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ موسیٰ علیہ السلام نے تو یہ تعلیم نہیں دی تھی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نئی بات نکالی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات دہرائی ہے جس کی دوسرے نبیوں نے اپنے اپنے وقت میں تعلیم دی۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم کوئی فائدہ اٹھانے لگو تو پہلے یہ دیکھ لو کہ اس سے کہیں تمہارے کسی ہمسایہ کو نقصان تو نہیں پہنچتا۔اب یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ہماری عقل کے کسی گوشہ میں بھی نہیں آ سکتا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں یہ تعلیم دی ہو کہ اے لوگو! تم کوئی نفع اٹھاتے وقت