خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 272

1950ء 272 خطبات محمود اس میں ایک ٹرک (Trick) بھی تھا کہ میں نے مصنوعی دانت لگا رکھے تھے ( بیماری کی وجہ سے میں نے اپنے بعض دانت نکلوائے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دانتوں سے ہوا نکل کر آواز کو کمزور کر دیتی ہے ) مجھے عام طور پر دانت لگانے کی عادت نہیں صرف کھانا کھاتے وقت لگا لیا کرتا ہوں لیکن اس دفعہ میں نے فیصلہ کیا کہ دانت لگا کر تقریر کروں اور اس کا آواز پر اچھا اثر پڑا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا فضل ہی تھا کہ اُس نے اس بات کی توفیق عطا فرمائی اور ہمارا جلسہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ عطافرمائی اس وقت مجھے منتظم صاحب لاؤڈ سپیکر ) قاضی عزیز احمد صاحب) کی طرف سے رقعہ ملا ہے کہ عبد الحمید صاحب نیلا گنبد ، محمود احمد صاحب اچھرہ اور ممتاز احمد صاحب سیالکوٹ کے لئے خاص طور پر دعا کی جائے جنہوں نے لاؤڈ سپیکر کا نہایت اچھا انتظام رکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ واقع میں دعا کے مستحق ہیں۔ مجھ سے کئی اور لوگوں نے بھی بیان کیا کہ اس دفعہ لاؤڈ سپیکر کا انتظام ایسا اچھا تھا کہ خود بخود ان لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی تھی۔ مستورات نے بھی بتایا کہ اُن کی طرف آواز ایسی صاف آتی تھی کہ دل سے دعا نکلتی تھی۔ غرض اس دفعہ لاؤڈ سپیکر کا انتظام ایسا غضب کا تھا کہ حیرت آتی ہے۔ بعد میں تو مجھے شرم آئی لیکن بہر حال ایک بات ایسی ہوئی جس کے متعلق میرا خیال تھا کہ بہت کم لوگوں نے سنی ہوگی مگر لاؤڈ سپیکر نے وہ بات بھی دوسروں تک پہنچادی۔ دوست جانتے ہیں کہ میرے گلے میں سوزش رہتی ہے اور چائے کا گھونٹ گھونٹ پینے سے وہ سوزش کم ہو جاتی ہے۔ میں تقریر کر رہا تھا ک سٹی والوں نے میرے سامنے چائے کی پیالی رکھی۔ میں نے چکھی تو وہ پھیکی تھی۔ چونکہ لمبی تقریر میں ضعف بھی ہو جاتا ہے اور ضعف کا علاج میٹھا ہے حتی کہ جب مریض بظا ہر دم بہ لب ہو تو اُسے گلوکوز کے ٹیکے کئے جاتے ہیں اور کئی اس سے اچھے ہو جاتے ہیں۔ اس لئے میں نے اُنہیں کہا کہ چائے پھیکی ہے اس میں اور میٹھا ملاؤ۔ انہوں نے پھر اس میں نہایت قلیل مقدار میں میٹھا ڈال کر میرے سامنے چائے لا رکھی۔ میں نے اُسے چکھا تو وہ پھر بھی پھیکی تھی۔ میں نے انہیں دوبارہ توجہ دلائی تو انہوں نے پھر دو ماشہ کھانڈ اور ڈال دی۔ جب تیسری دفعہ چکھنے پر بھی وہ چائے مجھے پھیکی معلوم ہوئی تو میں نے مذاقاً چائے کے نگرانوں سے آہستہ سے کہا کہ اگر میٹھا نہیں ملتا تو میرے گھر سے منگوالیں ۔ جب میں تقریر کے بعد واپس گیا تو میری ایک بیوی مجھے کہنے لگیں کہ آپ نے یہ کیا کہا تھا کہ اگر میٹھا نہیں ملتا تو میرے گھر سے منگوالیں۔ حالانکہ یہ بات میں نے اتنی آہستہ کہی تھی کہ میں سمجھتا تھا کہ سٹیج پر بیٹھنے والے بھی پر