خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 188

$1950 188 خطبات محمود احمدی ہو جائے گی۔اس وقت ہیں لاکھ کے قریب لاہور کی آبادی ہے۔اگر اٹھارہ لاکھ احمدی ہو جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ نو لاکھ بالغ فرد ہوں گے اور نو لاکھ آدمی چون لاکھ فٹ میں آ سکتے ہیں گویا سوا سو ایکٹر زمین ان کے لئے چاہیے اور یہ صرف سترہ مرلہ کی مسجد ہے۔سوا سو ایکڑ کے معنے ہیں ساڑھے بارہ سو کنال۔کیونکہ گورنمنٹ کا ایکڑ کچھ بڑا ہوتا ہے۔گویا اس مسجد سے قریباً پندرہ سو گنے بڑی مسجد یا بادشاہی مسجد سے بھی کئی گنا بڑی مسجد۔شاہی مسجد در اصل اُس وقت بنی تھی جب لوگوں نے نماز چھوڑ دی تھی۔اور پھر عام طور پر آجکل عید کی نماز میں بھی آدھے آدمی جاتے ہیں۔پھر کوئی احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور کوئی وہابیوں کے ساتھ پڑھ رہا ہوتا ہے۔پھر عورت بہت کم جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ مسجد بھری ہوئی ہوتی ہے۔پس خود ہی اندازہ لگالو کہ تمہیں کتنی بڑی مسجد کی ضرورت ہوگی۔پس یہ خیال ہی کی غلط ہے کہ جس مسجد کے بنانے کے لئے میں کہہ رہا ہوں وہ تمہارے لئے کافی ہو گی۔دس سال کے بعد ی پھر تمہیں اور مسجد بنانی پڑے گی اور وہی جو اب تمہاری جامع مسجد ہوگی محلہ کی مسجد بن جائے گی۔اس طرح آہستہ آہستہ اور قدم بقدم ترقی کرتے کرتے آخر میں وہ مسجد بنے گی جو تمام لا ہور کی نماز جمعہ کے لئے انشاء اللہ کافی ہو گی۔عید تو میدان میں ہی پڑھنے کا حکم ہے مگر جمعہ اور عید دونوں میں عورتوں کا آنا ضروری ہوتا ہے اس لئے دونوں مواقع پر عورتوں کی ضروریات کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے۔پس اس کی طرف توجہ کرو اور نئی مسجد کے لئے زمین خریدنے کی کوشش کرو۔میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں خود بھی اس کی بارہ میں کوشش کروں گا۔مگر اس خطبہ کے کچھ دنوں کے بعد میں کوئٹہ چلا گیا اور وہاں سے واپسی پر ہم ربوہ چلے گئے اس لئے میں اس طرف توجہ نہ کر سکا۔لیکن میں سمجھتا ہوں جماعت میں اور کئی دوست ہیں جو اس کام کو اچھی طرح سرانجام دے سکتے ہیں۔مستری موسی صاحب کا خاندان ہی اگر اس میں دلچسپی لے تو وہ بہت کچھ مدد دے سکتا ہے۔مستری موسیٰ صاحب کو زمینیں خرید کر بیچنے کا شوق تھا میں سمجھتا ہوں ان کے بچوں میں بھی کسی حد تک یہ مادہ ضرور ہو کم گا۔پس کوشش کر کے اڑھائی تین کنال زمین مسجد کے لئے خرید لو۔اس طرح چند سال کی ضرورتیں پوری ہو جائیں گی۔پھر اور ضرورت محسوس ہوگی تو اللہ تعالیٰ اور سامان پیدا کر دے گا۔اگر نئے آدمی آجائیں اور ہماری آمدنی بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ جائے تو ہر پانچویں یا دسویں سال اگر ایک نئی مسجد بنالی جائے جی تو اس میں کیا حرج ہے۔لوگوں کے چار چار بچے ہوتے ہیں تو وہ چاروں کے لئے الگ الگ گھر بناتے