خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 189

خطبات محمود 189 $1950 اُدھر ہیں۔اگر ایک گھر وہ خدا تعالیٰ کے لئے بھی بنادیا کریں تو اس میں کون سی مشکل ہے۔بہر حال صحیح تربیت کے لئے ضروری ہے کہ عورتیں دین سیکھیں اور عورتوں کے لئے دین سیکھنے کا کم سے کم موقع یہ ہے کہ وہ جمعہ میں آئیں اور خطبہ سنیں۔اگر تمام عورتیں جمعہ میں آنے لگیں تو پھر ہمیں ان کے چھوٹے بچوں کے لئے بھی الگ انتظام کرنا پڑے گا۔انگریزوں میں قاعدہ ہے کہ وہ ایسے موقع پر بچوں کے لئے الگ جگہ کا انتظام کر دیتے ہیں جس میں کھلونے وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ دھر مشغول ہو جاتے ہیں۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم نرسری کا ی انتظام کریں اور کچھ عورتیں ایسی مقرر کر دی جائیں جو نماز کے وقت بچوں کی نگرانی رکھیں۔جس طرح میں نماز پڑھاتا ہوں تو پہرے دار کھڑے رہتے ہیں اسی طرح یہ جائز ہوگا کہ لجنہ اماءاللہ ہر جمعہ کے موقع پر پانچ سات عورتیں ایسی مقرر کر دے جن کے سپر د بچوں کو پانی پلانا اور پیشاب کرانا ہو۔وہ آپس میں لڑ پڑیں تو اُن کو چُپ کرانا ہو اور پھر لجنہ کی طرف سے یہ ڈیوٹیاں بدلتی رہیں تا کہ عورتیں بھی اطمینان کے ساتھ خطبہ سن سکیں اور بچوں کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔بہر حال جوں جوں تہذیب ترقی کرے گی اور جوں جوں ہمارے حالات بدلتے جائیں گے ہمیں اپنے نظام میں بھی ایسی چک پیدا کرنی پڑے گی تا کہ ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے۔“ خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا: 66 ”میاں سراج الدین صاحب کہتے ہیں کہ میرا اپنا گھر کوئی نہیں مگر میں خدا کے گھر کے لئے پانچ کی ہزار روپیہ چندہ دیتا ہوں۔جماعت کے دوست جب بھی چاہیں میں انہیں دے دوں گا۔آجکل یہ الفضل میں اشتہار بھی دے رہے ہیں کہ دوست اللہ تعالیٰ کہا کریں۔یہاں کے جو امیر صاحب ہیں اُن سے ایک دن میں نے کہا تھا کہ الفضل کی آمد چونکہ اشتہاروں پر ہی ہے اس لئے اُن سے کہیں کہ وہ پورے صفحہ کا اشتہار دیا کریں چھوٹا اشتہار لوگ پڑھتے نہیں۔بہر حال اچھی بات یہی ہے کہ مسجد ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس کی اہمیت بتائی جائے تو بہت سے لوگ قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ابھی صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ مسجد کے لئے جگہ لی جائے پھر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو بنانے الفضل مورخہ 12 اکتوبر 1950ء) والے بھی پیدا ہو جائیں گے۔“ 1: فرقدان: سر کھوپڑی