خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 141

1950ء 141 خطبات محمود یہاں تک کہ انتظار کرتے کرتے عصر کا وقت آگیا ۔ لوگ گھبرائے اور انہوں نے اُس صحابی سے پوچھا کہ کیا آپ کو کچھ پتہ ہے کہ وہ کون تھا جس کی آپ نے ضمانت دی ہے؟ انہوں نے کہا میں تو اسے نہیں جانتا۔ وہ کہنے لگے یہ عجیب بات ہے اگر آپ اسے جانتے نہیں تھے تو آپ نے اس کی ضمانت کیوں دی تھی؟ انہوں نے کہا میں اسے جانتا تو نہیں مگر میں نے ضمانت اس لئے دی کہ اس نے سارے آدمیوں کو دیکھ کر صرف میری طرف ہی اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ میرے ضامن ہیں۔ جس شخص نے مجھ پر اتنی حُسنِ ظنی کی میں اُس کی اس حُسن ظنی کو کس طرح ضائع کر سکتا تھا۔ جب اس نے تمام لوگوں پر نظر ڈال کر صرف میرا ہی انتخاب کیا اور میرے متعلق اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ میں اس کی ضمانت دے دوں گا تو میں یہ بے حیائی کس طرح کر سکتا تھا کہ اس کی ضمانت نہ دیتا۔ اب صحابہ ا کو اور فکر ہوا کہ اگر وہ نہ آیا تو یہ مخلص صحابی اس کے بدلہ میں مارے جائیں گے۔ اسی فکر میں اور پریشانی کی حالت میں سب لوگ کھڑے تھے کہ جب دھوپ کا رنگ زرد ہو گیا اور سورج غروب ہونے کا وقت آیا تو لوگوں نے دیکھا کہ دور سے غبار اڑتا نظر آ رہا ہے۔ سب کی نظریں اس کی طرف جم گئیں اور انتظار کرنے لگے کہ دیکھیں یہ آنے والا کون شخص ہے۔ جب وہ قریب پہنچا تو وہ وہی شخص تھا جس کے قتل کا فیصلہ ہوا تھا۔ وہ تو وہ ہی تھا ہواتھا۔و اس تیزی کے ساتھ اپنی سواری کو دوڑاتا ہوا پہنچا کہ جب عین اُس مقام پر آیا جہاں اُس کا انتظار کیا جا رہا تھا تو اس کا گھوڑا دوڑانے کی شدت کی وجہ سے زمین پر گر گیا۔ اب لوگوں کو اور زیادہ حیرت ہوئی کہ یہ عجیب انسان ہے اس کا کسی کو علم ہی نہیں تھا کہ کہاں کا رہنے والا ہے مگر پھر بھی اپنے قتل کے لئے حاضر ہو گیا حالانکہ اگر وہ نہ آتا تب بھی کوئی اسے گرفتار نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ کسی نے اس سے کہا کہ تیرا تو کسی کو پتہ نہیں تھا کہ تو کہاں کا رہنے والا ہے؟ کیا تیرے دل میں یہ خیال نہ آیا کہ میں اس وقت نہ جاؤں اور قتل سے محفوظ رہوں؟ اُس نے کہا کیا میں ایسا بے ایمان ہو سکتا تھا کہ اپنے ضامن کو مروا دیتا اور خود بیچ جاتا۔ میں نے ایک اجنبی شخص کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ میرا ضامن ہوگا۔ اس پر اس نے بغیر اس کے کہ وہ مجھے جانتا میری ضمانت دے دی حالانکہ وہ خوب سمجھتا تھا کہ اگر میں وقت پر نہ آیا تو میری جگہ اسے پھانسی دے دی جائے گی۔ جب اس نے مجھ پر یہ احسان کیا تو میں ایسا کمینہ نہیں ہو سکتا تھا کہ اپنی جان بچا لیتا اور اس کو قتل کروا دیتا۔ پھر اس نے کہا مجھے یہاں آنے میں اس لئے دیر ہوگئی کہ امانتیں نکالنے اور ان کے واپس کرنے میں زیادہ وقت صرف ہو گیا۔ مگر جونہی میں اس کام سے فارغ ہوا میں